زندگی خالق اکبر کی طر ف سے بہت بڑا عطیہ اور اُس کی امانت ہے ۔ انسان کو خالق نے کائنات میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے اور خلیفہ بے سبب نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ اُس پر بھاری ذمہ داریاں بھی عائد کی جاچکی ہیں۔چونکہ جان دی دی ہوئی اُسی کی ہے تو انسان کی زندگی کا مالک بھی خالق کائنات ہی ہے اور وہی اُس کی جان ختم کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے۔ اگر کوئی اس کے عطاکردہ وجود میں خلل ڈالتا ہے یا اُس کو ہلاک کرنے کی مذموم کوشش کرتا ہے تو وہ خالق اکبر کا مجرم اور خائن شُمار ہوتا ہے۔ خود کُشی کو بُزدلی اور کم ہمتی کی دلیل سمجھا جاتا ہے۔ مُفکرین اسے کمزور اور مایوس لوگوں کا زندگی کے مسائل، مشکلات، آزمائشوں اور ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کا ایک غیر اسلامی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی طریقہ قرار دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے پوری دُنیا میں خود کُشی کا رحجان حیرت انگیز حد تک بڑھ چکا ہے عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دُنیا میں ہرسال دس لاکھ سے زائد انسان خود کُشی کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی خود کُشی جیسےقبیح فعل میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔خودکُشی کے اصل محرکات تو نفسیاتی ماہرین ہی بیان کرسکتے ہیں تاہم معاشرے کے روز مرہ معمولات کا مطالعہ کرنے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ غربت، بے روزگاری، جبری شادی، والدین کی عدم توجہی، امتحانات میں ناکامی، گھریلو ناچاقی اورمعاشرتی بے راہ روی جیسی وجوہات انسان کو اپنی خوبصورت زندگی ختم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شُمار کے مطابق 2017 ء سے 2021 ء تک یعنی گُزشتہ پانچ سالوں میں 222افراد نے خود کُشی کرلیا ہے جن میں 118 مرد اور 104 خواتین شامل ہیں۔ اگر ہم بین الاضلاعی سطح پر اس کا جائزہ لیتے ہیں تو اِن پانچ سالوں میں گلگت ڈویژن کے اضلاع کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ ضلع گلگت میں کل 44 افراد نے خود کُشی کیا ہے جن میں 27 مرد اور 17 عورتیں شامل ہیں، ضلع غذر میں کل 111 افراد نے اپنی زندگی کا چراغ گُل کردیا جن میں 45 مرد اور 66 عورتیں شامل ہیں، ضلع ہنزہ میں کل 26 افراد نے خودکُشی کا ارتکاب کیا جن میں 15 مرد اور 11 عورتیں شامل ہیں، ضلع نگر میں ایک مرد اور ایک عورت نے ان پانچ سالوں میں خود کُشی کر لیا۔ استور دیامر ڈویژن کے دو اضلاع میں سے ضلع دیامر میں صرف ایک مرد نے اِن پانچ سالوں میں خودکُشی کرلیا ہے جبکہ ضلع استور میں اِن پانچ سالوں میں تین مردوں اور دو عورتوں نے اپنی زندگی کا چراغ گُل کردیا ہے۔ بلتستان ڈویژن کے چاراضلاع میں سے ضلع سکردو میں اِن پانچ سالوں میں 20 مردوں اور 4 عورتوں نے خود کشی کرلیا ہے، ضلع گانگچھے میں ایک مرد اور ایک عورت نے اِن پانچ سالوں میں خودکُشی کرلیا ہے، ضلع شگر میں 5 مردوں اور ایک عورت نے خود کُشی کرلیا ہے جبکہ ضلع کھرمنگ میں اِن پانچ سالوں میں صرف ایک عورت کے خود کُشی کرنے کا ریکارڈ موجود ہے۔مختصر عرصے میں خودکُشی کے واقعات کے اِن اعداد و شُمار کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ایک علماء پرور اور دینی ماحول کے حامل اس معاشرے میں خود کُشی جیسے غیر شرعی فعل میں کس قدر اضافہ ہو تا جارہا ہے اس طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔ ذمہ دار اداروں کو اِن واقعات میں اپنی زندگی کا چراغ گُل کرنے والے افراد کے اہل خانہ سے وجوہات معلوم کرتے ہوئے اس کے تدارک کےلئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں بُنیادی کردار ماں باپ کا بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح معنوں میں تعلیم و تربیت دیں بچوں سے دوستانہ تعلقات اُستوار کرکے اُن کے مسائل سُنیں اور حل کریں دوسرے مرحلے میں اساتذہ کرام جنہیں روحانی ماں باپ کا درجہ حاصل ہے اساتذہ بھی اپنے شاگردوں سے دوستانہ تعلقات بنا کر اُن کے روز مرہ کے معمولات اور مسائل دریافت کرسکتے ہیں اور اُن کی بہتر تربیت کر سکتے ہیں۔ معاشرے کا سب سے مئوثر طبقہ علمائے کرام کا ہے جو قرآن و سُنت اور تعلیمات اہلیبیت کی روشنی میں معاشرے کے ہر طبقے کی اچھی رہنمائی کرتے ہوئے اس غیر شرعی فعل سے معاشرے کے ہر طبقے کو روک سکتے ہیں۔ حیرت ہے کہ حکومتی سطح پر خود کُشی کے بڑھتے ہوئے رُحجان کو روکنے کے لئے کوئی حکمت عملی تا حال مُرتب نہیں کی جاسکی جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ ماضی قریب میں ضلع غذر میں خود کُشی کے پے درپے واقعات کے پیشِ نظر سابق وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال کی سربراہی میں گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کرنی تھی مگر وہ کمیٹی بھی کچھ کر دکھانے میں ناکام ثابت ہوئی۔ ہم ہمیشہ ایک واقعے کے بعد کچھ دنوں کے لئے چہل پہل کرتے ہوئے بُلند و بانگ دعوے تو کرتے ہیں مگر اُس کا مستقل حل تلاش کرنے کے لئے لائحہ عمل طے کرنے کی سعی نہیں کرتے بلکہ دوسرے کسی واقعے کا انتظار کرتے ہیں۔ یاد رکھیں پچھلے مذکورہ پانچ سالہ صورت حال کی نسبت رواں سال کے اِن چار مہینوں کے واقعات پر نظر دوڑایا جائے تو صورتِ حال انتہائی گھمبیر ہے ۔حکومت کو چاہئے کہ اس حساس مسئلے کو اہمیت دیتے ہوئے اس کے اسباب و عوامل معلوم کرنے اور اس تشویشناک صورتِ حال کو روکنے کے لئے ہنگامی بُنیادوں پر کام کرے جس کے لئے علمائے کرام ، دونو جامعات (قراقرم انٹرنیشنل یونی ورسٹی اور بلتستان یونی ورسٹی) اور ماہرین نفسیات کی خدمات بھی لی جاسکتی ہے۔ فی الوقت حکومت کو پانی سر سے گُزرنے سے پہلے تمام اضلاع کے ہسپتالوں میں ماہرین نفسیات تعینات کرنے ہوں گے جو معاشرے میں ذہنی پریشانیوں کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ذہنی مریضوں کا مستقل علاج کریں اور خودکُشیوں کے سدباب کے لئے بھی اپنا کردار اداکریں۔ یہاں ایک بات قابلِ ذکر ہے کہ بسا اوقات غیرت کے نام پہ کئے جانے والے قتل کو بھی خود کُشی کا رنگ دیا جاتاہے جسے ثابت کرنے کے لئے معاشرے کے افراد کو اخلاقی جراءت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحقیقات کے دوران پولیس سے تعاون کرنا ہوگا کیو نکہ بنا لوگوں کے تعاون کے پولیس خود کُشی کے واقعات کو قتل ثابت نہیں کرسکتی۔ معاملہ چوںکہ سنگین ہے اور توجہ طلب ہے سو ہم نے اس تحریر کے ذریعے اپنی شرعی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری ادا کرلی اب ذمہ داروں پر منحصر ہے کہ وہ اس پر غور و فکر کرتے ہوئے مئوثر حکمت عملی مرتب کرتے ہیں یا پھر حسب روایت صرف نظر کرتے ہیں
تحریر:- جی ایم شجاع
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟