ارض شمال میں واقع ایک خوبصورت اور دلنشیں لیکن دور افتادہ علاقہ جسے گنگچھے کہتے ہیں اپنی حسن و خوبصورتی میں تو بے نظیر ہے لیکن میں آج ایک ایسے پہلو پر خامہ فرسائی کرنے کی کوشش کروں گا جو کہ نہایت المناک ہے یہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے چند خاندان جو علاقائی سیاست سے وابستہ ہیں اور متعدد بار ایوانوں میں بھی پہنچ چکے ہیں اس جدید اور ترقی یافتہ دور میں بھی فرسودہ اور قدیم طرز سیاست کو اپنائے ہوئے ہیں اور عوام پر اپنی حکمرانی قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن جب سے سوشل میڈیا تک ہر فرد کی رسائی ہوئی ہے اور لوگ حالات و واقعات سے باخبر رہنے لگے ہیں ان لوگوں کی سیاست گویا مشکل میں پڑ گئی ۔
رفتہ رفتہ یہاں کے باشعور نوجوان معاملات اور سیاسی پیچ و خم کو سمجھنے لگے اور ان کی سیاست پر سوال اٹھانے لگے تو یہ خوفزدہ ہو گئے اور ان کے پاس اپنی حاکمیت قائم رکھنے کیلئے کوئی جواز باقی نہ رہا تو ان کی اولاد جو اپنے باپ دادا کی وراثت سمجھ کر علاقے پر حکمرانی کرنے کے خواہشمند ہیں سیاسی شعور رکھنے والے نوجوانوں کا مذاق اڑایا کرتے ہیں اور ان کی سیاسی تحریکوں پر غیر سنجیدہ تنقید کرتے نہیں تھکتے وہ یہ جتانا چاہتے ہیں کہ سیاست ان کے گھر کی لونڈی ہے ان کا ماننا یہ ہے کہ سیاست پر ان کی اجاراداری ہیے اؤر کسی بھی غریب،مزدور،کسان کے بیٹے کو سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں ہے
یہ مخصوص جابر گروہ سمجھتی کہ سیاست انہوں نے اپنی آل اولاد کو منتقل کرنی ہیے لہذا کوئی بھی عام باشعور نوجوان جو ان کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں ان کا پہلے مذاق اڑایا جاتا ہیے یا پھر بڑے ناصحانہ انداز میں سمجھا جاتا ہیے کہ سیاست آپ کے بس سے باہر ہیے لہٰذا نوکری کو ترجیح دیں اور وہ دبے الفاظ میں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ حکمرانی ہم نے کرنی ہیے۔
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
عروج ِ آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے
میرے عزیز ہم وطن باشعور دوستو سیاست کرنا ہر شہری کا حق ہیے اب فیصلہ ہم نےخود کرنا ہیے
کیا ہم نے ان کی نسل درنسل غلامی کرنی ہیے؟
کیا ہم نے ان کے حق صرف نعرہ لگانا ہیے؟
کیا سیاست ان کی وارثت ہیے؟
عزیز دوستو وقت کا تقاضا ہیے کہ ہمیں ایسی مخصوص سوچ رکھنے والے اشرافیہ کی سوچ اور فکر سے مقابلہ کرنے کے لیے گلی گلی،نگر نگر، تک سیاسی شعور بیدار کرنے کی ضرورت تاکہ ایک عام مزدور کا بیٹا بھی اس پر گفتگو کرسکے اور وہ اس کو پتہ ہو اس میرا حقوق کیا اور فرائض کیا ہیں۔
اب میں ایسی مخصوص سوچ رکھنے والی اشرافیہ اور ان کی آل اولاد کو یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ سیاست ارتقاء کے مراحل سے گزر رہی ہے اب گانچھے انیسویں صدی والا نہیں سوشل میڈیا کا دور ہے لہذا ایسی غلط فہمی میں نہ رہیں یہ آپ کی بھول ہے
”
تحریر شجاعت حسین بلتستانی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟