سلیکٹڈ سے الیکٹڈ تک

0 0

مسلم لیگ ن اور اُسکی اتحادیوں جماعتوں کو اب تک یقین ہی نہیں ہو رہا کہ وہ واقعی دوبارہ اقتدار میں آ چُکے ہیں راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر خود کو چُٹکی کاٹتے ہیں کہ یہ کہیں وہ خواب تو نہیں دیکھ رہے
عمران خان کی آواز کی بازگزشت “میں این آر او نہیں دوں گا” صورِ اسرافیل بن کر کانوں میں گونجتی رہتی ہے
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اتحادیوں کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں یا حکومتی بنچوں پر پیلپز پارٹی، مسلم لیگ نون، جے یو آئی ،ایم کیو ایم ،بی اے پی بشمول طارق بشیر چیمہ ایک ہی صف میں بیٹھے نظر آتے ہیں پی ٹی آئی کے منحرف ارکان بھی کبھی اس ڈال پر کبھی اُس ڈال پر آزاد پنچھیوں کی طرح دانہ دُنکا چُگتے نظر آتے ہیں
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دن اور اُس کے بعد بھی کئی دفعہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سپیکر ایاز صادق شہباز شریف کو لیڈر آف اپوزیشن اور قاید نوازشریف کہتے رہے اُنہیں بھی شاید شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کا یقین نہیں ہوا ہے
محترمہ مریم اورنگ زیب صاحبہ نے تو انتہا کر دی جب وہ میڈیا کو بریفنگ دینے کے لیے سبزرنگ کے سوٹ میں ملبوس تشریف لائیں تو کمال لگ رہی تھیں کرسی پر بیٹھتے ہی حکومت کو چینی چور آٹا چور بجلی چور تیل چور نااہل اور سلیکٹڈ کہنا شروع کر دیا صحافی پہلے تو حیران ہوئے اور پھر پریشان کُچھ صحافیوں نے مریم اورنگزیب صاحبہ کو یاد دلایا کہ میڈم اب تو آپ کی حکومت ہے تو اُنہیں یقین آیا کہ اب تو واقعی انکی حکومت ہے
عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اب الیکٹڈ حکومت آچُکی ہے مگر ابھی تک نہ تو حکومت میں آنے والوں کو یقین ہو رہا ہے کہ انہیں کیوں لایا گیا نہ عوام کو یقین آرہا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو پانچ سال پورے کیوں نہیں کرنے دیے گئے
عمران خان کو لانے والے اور نکالنے والے بھی عوام کے رد عمل سے پریشان ہیں کہ وہ اب نیؤٹرل رہیں یا پھر؟؟؟؟؟؟؟

 

 

تحریر:-حیدر یبگو

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website