۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے سامنے اخبار میں لٹل کریم کے مرنے کی خبر جلی حروف میں درج ھے اور میرا دماغ سائیں سائیں کرنے لگتا ہے۔
ایسے میں عمار اقبال کے اشعار ایک کے بعد ایک دل و دماغ میں درد اور اذیت کی میخیں گاڑ رہے ہیں
یُوں بُنی ہیں رَگیں جِسم کی
ایک نس، ٹس سے مس اور بس
سب تماشائے کُن ختم شُد
کہہ دیا اُس نے بس اور بس
کیا ہے مابینِ صیّاد و صید
ایک چاکِ قفس اور بس
اُس مصوّر کا ہر شاہکار
ساٹھ پینسٹھ برس اور بس
یہ 2018 کے گرمیوں کے دن تھے جب میں ، ناصر تہرانی ، شبو (Rocio Retro) اور بشارت علی ہوشے گاؤں کی آڑی ترچھی گلیوں سے گزرتے ہوئے گاؤں کے واحد گیسٹ ہاؤس کا رخ کر رہے تھے۔ مٹی کی لیپ دئے روایتی گھر جو بے ترتیب پتھروں، بید کی ٹہنیوں اور سورج میں پکائی گئی مٹی کی اینٹوں سے بننے ہیں ان کی چمنیوں سے دھواں نکل رھا تھا اور بچوں کا ایک غول ہمارے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔ گاؤں میں ہر طرف سبزہ و گل تھا اور ایک رخ سے مشہ بروم پہاڑ کا جلوہ نہ صرف شاندار دیکھائی دے رہا تھا بلکہ اس کے دامن میں جنم لینے والی گلیشیر کی ٹھنڈک ہوا کے ذریعے ہوشے گاؤں کی خاموش فضا کو تازہ دم کر رہی تھی۔ دنیا بھر سے آورہ گرد مشہ بروم پہاڑ ، گونڈو گورو کی کشش میں یہاں کھینچے چلے آتے ہیں ۔ لیکن ہماری منزل کچھ اور تھی ہم تو کسی اور کی کشش میں یہاں پہنچے تھے اور وہ تھا لٹل کریم ایک منحنی، سادہ سا شخص لیکن جس کی شہرت اس چھوٹے سے پہاڑی گاؤں سے نکل کر چہار دانگ پھیل چکی تھی۔
گیسٹ ہاؤس میں سامان رکھنے کے فوراً بعد ہم نے لٹل کریم کے گھر کا رخ کیا مگر وہ وہاں موجود نہیں تھے معلوم ہوا کہ آگے چراگاہ سے گھاس پھوس اکٹھا کرنے گئے ہیں۔ ہم نے انتظار نہیں کیا بلکہ چراگاہ کی جانب لپکے اور ہمیں آدھا راستے میں ہی گھاس کی ایک بہت بڑی گھٹڑی اٹھائے لٹل کریم مل گئے۔ ہم حیرت میں مبتلا ہو گئے کہ کتنا بڑا نام مگر کس قدر سادگی وہی دیہی سٹائل اور گاؤں کی بودباش کو اپناتے ہوئے روزمرہ کے معاملات نمٹانے کا عوامی انداز۔ ہمیں دیکھ کر ان کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں وہی چمک اور تازہ مسکراہٹ ابھر آئی جو ان کی شخصیت کا خاصہ ہے ان کے ساتھ گھر پہنچے اور پھر یادوں کا ایک کے بعد ایک دریچہ کھلا جہاں سے ان کی زندگی کے مختلف رنگ قوس و قزح کی طرح بکھیرتے چلے گئے۔
یہ 1978 کی بات ہے کہ برطانیہ کا ایک گروپ K2 پہاڑ کو سر کرنے سکردو آ پہنچا تھا اور انہیں مضبوط ، توانا اور حوصلہ مند مقامی پورٹرز کی ضرورت تھی تاکہ وہ کوہ پیماؤں کی ٹیم کا سامان احتیاط سے منزل مقصود یعنی بیس کیمپ سے بھی آگے تک پہنچانے۔ اس سلسلے میں پورٹرز کی ریکروٹنگ کا کام شروع ہوا۔ مشہ بروم کے دامن میں واقع ایک دور افتادہ گاؤں ہوشے سے کریم بھی لائن میں کھڑا تھا اس امید سے کہ اسے بھی منتخب کیا جائے تاکہ وہ کچھ رقم کما کر گھر والوں کے لئے دال روٹی کا بندوست کرے۔ جب اس کی باری آئی تو اس کے مختصر قد و قامت کو دیکھ کر گروپ کو یقین نہیں آرہا تھا کہ کیا کریم یہ مشکل کام کر پائے گا لہذا انھوں نے معذرت ظاہر کی۔ کریم کے پاس دو راستے تھے ایک یہ کہ وہ چپ چاپ مایوس واپس چلا جائے یا دوسرا یہ کہ اپنی حیثیت ثابت کرے۔ ایسے میں کریم نے انوکھا طریقہ اختیار کیا کہ انھوں نے اچانک گروپ کے سربراہ کی ٹانگوں کے درمیان سر ڈالا اور کرسٹیانو کو جو چھ فٹ کے تھے اسے کاندھوں پر اٹھایا اور گراؤنڈ میں دوڑ کر چکر لگایا۔ سب انگشت بدنداں رہ گئے اور پھر کریم کو بطور پورٹر شامل کیا گیا اس مہم کے بعد کریم نے پھر مڑ کر نہیں دیکھا وہ بس آگے سے آگے بڑھتے چلے گئے۔
1981میں جب ایک جاپانی ٹیم اور نذیر صابر K2 سر کرنے کی مہم میں تھے ایسے میں جب نذیر صابر اور ایک جاپانی آکسیجن گیس سلنڈر کے خاتمے کی وجہ سے آخری مرحلے میں K2 سر کرنے سے قاصر تھے۔ یہ خبر سنتے ہی کریم نے جو بیس کیمپ پر تھے گیس سلینڈر اٹھائے 7100 میٹر تک چلے گئے یوں اس سپلائی کو نذیر صابر اور جاپانی نے غیبی امداد سمجھا۔
لٹل کریم نے 1985 اور 1988 میں گشہ بروم سر کیا جبکہ 1986 میں براڈ پیک سر کیا۔ انہوں نے کئی بار K2 سر کرنے گئے مگر موسم کی سختیوں کی وجہ سے ٹیم کو واپس لوٹنا پڑا۔ وہ دنیا کے مشہور کوہ پیماؤں کی مہمات کا حصہ رہے اور پوری دنیا میں ان کی قدر و منزلت بہت زیادہ ہے یہی وجہ ہے ان پر بین الاقوامی سطح پر تین ڈاکومنٹریز بنائی گئی ہیں جو لٹل کریم (1985) میں مسٹر کریم( 1997) میں جبکہ تیسری آپو کریم (2011) کے نام سے مقبول عام ہے۔
ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ 2018 میں وہ سپین گورنمنٹ کی دعوت پر وہاں گئے تو سپین کے تمام مشہور کوہ پیما ان سے ملنے ائے۔ نیز لٹل کریم کی فرمائش پر مشہور فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو ان سے ملنے جہاز لے کر آئے ، کریم اور ان کے بیٹے محمد حنیف سے خصوصی طور پر ملے اور تحائف پیش کیا۔
سادگی اس حد تک کہ کئی ملکوں اور کوہ پیماؤں کی جانب سے انہیں یورپین اور دیگر ملکوں کی شہریت کی آفر دی گئی مگر بصد احترام معذرت چاھی اور اپنے گاؤں گوشے کو ترجیح دی۔ کبھی زندگی میں کسی سے ذاتی طور پر کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا جس نے بھی مدد کا عندیہ دیا لٹل کریم نے انہیں ہوشے کی کمیونٹی کی سماجی ڈویلپمنٹ کے لئے خرچ کرنے کو کہا۔ کبھی کسی سے کوئی شکوہ نہ گلہ گیا کہ انہیں ملکی سطح پر اس طرح سراہا نہیں گیا جس کے وہ حقدار تھے۔ بیماری کے دنوں میں شاید کئی لوگوں نے مدد کی ھو مگر سابق FCNA کمانڈر جنرل احسان محمود نے ان کی صحت کے لئے ضروری اقدامات کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
زندگی کیا ھے عناصر کا ظہورِ ترتیب
موت کیا ھے انہی اجزاء کا پریشاں ہونا
تحریر عاشق فراز
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟