تبدیلی بس اتنی سی کہ نوے کی دہائی دہرائی گئی

0 0

جناب عمران خان صاحب کے وزارت عظمی کے سنگھاسن پر براجمان ہونے پر احقر نے لکھا تھا کہ نو منتخب وزیر اعظم آکسفورڈ کے فارغ التحصیل ہونے اور سات سے آٹھ کتابوں کے مصنف ہونے کے ناطے اس قابل ہیں کہ ہم ان سے اس بات کی بجا طور پر توقع رکھیں کہ وہ ملک میں رائج الوقت گندی سیاست اور اسٹیٹس کو (status quo)کو بالکل بدل کر رکھ دیں گے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد۔۔ ہماری تمام تر امیدیں اور خان صاحب کے تمام تر دعوے نقش بر آب ثابت ہو گئے۔ تبدیلی کیا آنی تھی اس کے برعکس نوے کی دہائی جو کہ انتقامی سیاست اور فرقہ واریت کی دہائ تھی اس دہائی کی تاریخ دوبارہ دہرائی گئی۔
اسی اور نوے کی دہائیاں بھٹو خاندان اور شریف خاندان کی خاندانی رقابت پر مبنی انتقامی سیاست کی دہائیاں تھیں۔ پاکستان کے ہر سیاسی خاندان نے فوج سے قربت کے ذریعے طاقت حاصل کی ہے۔ بھٹو صاحب فیلڈ مارشل ایوب خان مرحوم کے پروردہ تھے اور ایوب خان کو ڈیڈی کہتے تھے۔ جنرل ایوب خان اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے مابین صدارتی مقابلے کے وقت بھٹو صاحب نے مادر ملت کا ساتھ دینا تو دور کی بات بلکہ جنرل ایوب خان کی محبت میں سرشار ہو کر مادر ملت کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔
جب بھٹو صاحب کی حکومت نے نجی کاروباری اداروں کو قومیانے (nationalize) کے نام پر شریف خاندان کے کارخانوں پر شبخون مارا تو شریف خاندان جیسے ایک بے ضرر سے کاروباری خاندان کو بھی اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت حاصل کرنے کی خاطر جنرلوں سے قربت کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی۔ پھر جناب میاں نواز شریف سیاست میں بالغ (mature) ہوئے تو انہیں بھٹو کی طرح حقیقی جمہوریت کا ادراک ہونے لگا یہاں تک ایک پنجابی سیاستدان ہونے کے باوجود میاں صاحب بلوچ اور پختون قوم پرستوں کے ہاں بھی پسندیدہ ٹھہرنے لگے۔ جب ایک سیاستدان بلوغت نظری کی دہلیز پر پہونچتا ہے تو وہ مذھبی اور لسانی تعصبات کی سرحدوں سے نکل جاتا ہے۔ میاں صاحب مذھب پرستوں کے حصار سے نکل کر سیکولرزم کی کھلی فضا میں اڑان بھرنے لگے تھے جس کی ان کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔
دوسری طرف گجرات کے چوہدری خاندان کو نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کی طرف سے سخت قسم کی سیاسی عداوت درپیش تھی۔ نواب آف کالا باغ سب سے زیادہ با اثر اور دبنگ سیاسی فرد تھے۔ ان کے سامنے گجرات کے چوہدریوں کی کوئی پیش نہیں جاتی تھی۔ اس لیے گجرات کے چوہدریوں کو بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے پائدار تعلقات کی اہمیت شدت سے محسوس ہوئی۔ جناب چوہدری شجاعت حسین کے والد مرحوم چوہدری ظہور الٰہی شہید کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بہت ہی شریف النفس اور وضعدار شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے سینکڑوں یتیم بچیوں کی پرورش کر کے ان کے رشتے با اثر فوجی آفیسروں کے ساتھ کرائے ۔ اس طرح جنرل ضیاء سے لے کر جنرل مشرف تک ہر فوجی حکمران کا ساتھ دیا۔
اب ہم آتے ہیں پاکستانی سیاست کے مہا گرو جناب مولانا فضل الرحمن کی طرف ۔ مولانا فضل الرحمن صاحب دیوبند کے با اثر عالم مفتی محمود مرحوم کے فرزند ہیں۔ جناب مفتی محمود صوبہ سرحد(KPK)کے وزیر اعلی رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن جمعیت علمائے اسلام کے ایک دھڑے کا سربراہ ہیں۔ دوسرے دھڑے کا سربراہ مولانا سمیع الحق کے صاحبزادہ ہیں مگر وہ دھڑا سیاسی طور پر اس وقت غیر فعال ہے۔ واضح رہے جمعیت علمائے اسلام جمعیت علمائے ہند سے الگ ہونے والے ان علماء کی تنظیم تھی جو انگریزوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کو برطانوی تسلط سے آزاد کرانے میں جمعیت علمائے ہند کے عظیم علمائے کرام جناب مولانا محمودالحسن رح اسیر مالٹا، جناب سید حسین احمد مدنی رح، جناب مولانا عبیداللہ سندھی رح، وغیرہ کی گراں قدر قربانیوں کو بنیادی دخل ہے۔ جمعیت علمائے اسلام جمعیت علمائے ہند کی ایک باغی جماعت تھی۔ جمعیت علمائے ہند قیام پاکستان کی سخت مخالف تھی جبکہ جمعیت علمائے اسلام قیام پاکستان کی حامی تھی۔ اس لیے اس بات میں کوئی وزن نہیں کہ جناب مفتی محمود قیام پاکستان کے خلاف تھے۔ جناب مولانا فضل الرحمن کی سیاست ہمیشہ ناقابل فہم رہی ہے۔ اس میں کو کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمن صاحب سیاسی فہم و ادراک کے حوالے سے انتہائی زیرک ،معاملہ فہم اور نڈر ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمن کی ان بے پناہ سیاسی صلاحیتوں سے پاکستان کے مٹھی بھر اشرافیہ کے زیر تسلط سسکتے عوام کو کبھی کچھ فائدہ ملا؟ اس کا جواب یقینا نفی میں ملے گا۔ مولانا صاحب کی ان بے پناہ سیاسی صلاحیتوں کے فائدے فوجی ڈکٹیٹروں،سیاسی اشرافیہ اور خود ان کی ذات کو ملے ہیں۔ مولانا صاحب اکثر اوقات طاقت کے مراکز کو بلیک میل کرنے، سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اس قسم کے بیانات دیتے ہیں کہ ہم یوم پاکستان نہیں منائیں گے۔ میرے مدرسے کے بچوں کے ہاتھ میں ہتھیار کس نے پکڑائے تھے؟ ، وغیرہ وغیرہ۔
افسوس کہ خان صاحب نے تبدیلی کے نام پر پاکستانی عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا۔ انہوں نے احتساب کے نام پر ایک دو خاص سیاسی خاندانوں کو ٹارگٹ بنا کر نوے کی دہائی کی گندی انتقامی سیاست کی تاریخ دہرائی۔ سیاست میں بدتمیزی اور گالیوں کا کلچر متعارف کرایا۔ مذھب کا بے دریغ استعمال کیا۔ بلند بانگ معاشی دعوے کرنے کے باوجود ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ مہنگائی حد سے زیادہ بڑھ گئی۔ فرقہ واریت کا جادو پھر سے سر چڑھ کر بولنے لگا۔ تاہم ہمیں کھلے دل سے یہ اعتراف بھی کرنا ہے کہ ساتھ ہی ساتھ ان کی طرف سے امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کو ان کی منافقت پر مبنی پالیسی پر آڑے ہاتھوں لینا، عوام کی ریلیف کے لیے شفافیت پر مبنی احساس پروگرام، یکساں تعلیمی نصاب، وغیرہ اقدامات ان کی حکومت کے گراں قدر کام ہیں جن کی بجا طور پر تعریف ہونی چاھیے۔
پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں میں میرے نزدیک جنگ آزادی کے عظیم مجاہد ، مخلص سماجی رہنما، درویش سیاستدان جناب باچا خان رح کی وارث عوامی نیشنل پارٹی ہر طرح سے با اصول ، سیکولر اور اپنے نظریات میں ایک واضح سیاسی جماعت ہے مگر افسوس یہ جماعت نسلی سطح سے اوپر اٹھ کر قومی سطح پر ابھی تک نہیں ابھری۔ ہم نے اس جماعت کے قائدین کو کبھی بھی غیر سیاسی دہلیزوں پر سجدہ ریز ہوتے نہیں دیکھا ہے۔ ہاں جماعت اسلامی بھی اپنے اندر کی جمہوری قدروں کے حوالے سے ایک معیاری جمہوری پارٹی ہے کیونکہ اس کے امیر خفیہ رائے شماری کے ذریعے منتخب ہو کر آتے ہیں۔ مگر اس جماعت نے مذھب کے نام پر ہمیشہ دھرنوں اور تشدد کی سیاست کی جس کے فائدے ہمشہ جمہوری قوتوں کو ملنے کی بجائے غیر جمہوری قوتوں کو ملتے رہے۔ ملک میں عسکریت پسندی (militancy) کے رجحان کو فروغ دیا۔ مارشل لائی حکومتوں کی بی ٹیم کے طور پر کام کیا۔ پڑھے لکھے افراد کی جماعت ہونے کے باوجود یہ جماعت ابھی تک قوم کو ایک صالح معیشت پر مبنی سیاسی نظام کا خاکہ دینے میں ناکام ہے اور اپنے بانی جناب سید مودودی کے فکری کام میں تجدیدی نوعیت کی تبدیلیاں لانے کی بجائے اب بھی مودودی صاحب کے نظریات کی جگالی کر رہی ہے۔
میری گزارشات کا لب لباب یہ ہے کہ ہمارے وطن عزیز کی سیاست طاقت رخی سیاست(Power oriented politics) ہے اور پورا ملکی نظام سرمایہ دارانہ ہے۔ اس لیے یہاں کی سیاست سرمائے کے بل پر سرمائے کی خاطر ہوتی ہے۔ اس نظام میں صرف سرمائے کے بل پر چہرے بدلے جاتے ہیں مگر عوام کی حالت جوں کی توں رہتی ہے۔

تحریر. حیدر یبگو

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website