سکردو(ٹی این این) سکردو نیا گلگت بلتستان میں سرکاری دفاتر ویران سردی سے بچنے گرم علاقوں کا رخ اب روایت بن گئے بہت سارے سرکاری اداروں کے زمہ داران اور کلرکل سٹاف سردی سے بچنے کیلئے اپنے فیملی کے ساتھ گرم علاقوں کی طرف کوچ کرگئے ہیں جس کے سبب سرکاری امور کی انجام دہی ٹھپ سائلین پریشان تفصیلات کے مطابق محکمہ تعمیرات کے چیف انجینئر سے لے کر سب انجینئرز تک سب لمبی چھٹی پر چلے گئے فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتنے کے سبب کوئی بھی مکمل پی سی ون متعلقہ حکام تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں جس کی وجہ سے ٹینڈر پروسیس میں تاخیر اور کام بروقت شروع نہ ہو سکنے کی وجہ سے سالوں لگ جاتے ہیں اسی طرح سے دیگر اداروں میں بھی کچھ یہی صورتحال ہیں سردیاں قریب آتے ہی مختلف بہانے تراش کر نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں بعض علاج معالجہ کا بہانہ بنا کر ڈاکٹروں سے سفارشات لے کر چل نکلتے ہیں تاکہ کوئی چیلنج نہ کر سکیں ڈی سی آفس ہو یا تحصیل آفس جب تک جوتے نہیں پھٹتے کام نہیں نکلتے یہاں عجب سماں ہے کہ آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے عوامی حلقوں نے آفسر شاہی کی عوام دشمن روش پر وزیراعلیٰ اور گورنر گلگت بلتستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آفسر شاہی کی ناز نخرے ساتویں آسمان پر ہے اور احساس زمہ داری سے عاری ہیں جسے نکیل نہ ڈالی گئی تو یہ حسب معمول روایت بن جائیں گے مزکورہ بالا سرکاری مراعات یافتہ طبقہ غریب عوام پر بوجھ ہیں جب تک نظام میں تبدیلی نہیں لائیں گے یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا
نیا گلگت بلتستان میں بلتستان کے سرکاری دفاتر ویران عوام نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سے بڑا مطالبہ کردیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا