وزیر تعمیرات گلگت بلتستان وزیر سلیم کے حلقے میں منصوبوں کی غیر منصفانہ تقیسم.

0 0

سب سے پہلے وزیر تعمیرات وزیر محمد سلیم کو اس بات کا کریڈٹ دوں گا کہ پہلی بار کسی عوامی نمائندے نے حلقے کیلئے جاری منصوبوں کو پبلک کیا. جو کہ خوش آئند بات ہے کیونکہ اس سے پہلے ناشاد کے 20 سالہ دور آمریت میں ہر کام چمچوں کے زریعے under the table ہوا کرتے تھے. یہی وجہ ہے کہ حلقہ نمبر تین کے کئی علاقہ جات آج بھی ترقیاتی کاموں کے قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے. لیکن میں صرف اپنے آبائی علاقے غاسنگ اور منٹھوکھا کی بات کروں گا. جہاں ناشاد عرصہ دراز اجتماعی عوامی مفادات کیلئے کام کرنے کے بجائے چمچوں کی داد رسی کرتے رہے ہیں. ہمارے علاقے میں ماضی میں محدود سرکاری فنڈز بھی فقط ناشادی آمریت کی وجہ سے کرپٹ عناصر کی کرپشن کا نذر ہوتے رہے ہیں. ہم امید کرتے ہیں کہ اس بار وزیر سلیم تقیسم کردہ منصوبوں کو میرٹ اور معیار کی بنیاد خرچ کروانے کیلئے خود براہ راست نگرانی کرے گا.
لیکن وہ تمام منصوبہ جات کے تقیسم کی وزیر سلیم نے لسٹ جاری کی ہے اس میں میرٹ کم نظر آتا ہے.
اُن کی طرف جاری کردہ شیٹ کے مطابق اُنہوں نے ADP آبادی کے حساب سے تقیسم کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن اگر آبادی حساب سے دیکھیں تو سب ذیادہ منصوبہ مہدی آباد اور سب سے کم گلتری کیلئے رکھا ہے اسی طرح غاسنگ، منٹھوکھا، منٹھو نالہ کی آبادی اور ضرورت کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے منصوبے رکھے ہیں. لہذا انکو اگر مستقبل سیاست کرنی ہے تو نظر ثانی کرنی ہوگی.
مثال کے طور غاسنگ نالہ روڈ یہاں کے نوے فیصد عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا اور آج تک علاقے کے نوے فیصد عوام کی معشیت سے مربوط یہ سڑک غاسنگ کے غداروں کی سازشوں کا شکار رہے جس کی وجہ سے غاسنگ نالہ جو غاسنگ کے عوام کیلئے اور گاوں کی زرعی اور معاشی ضروریات کے تناظر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں کھنڈر بن رہا ہے. وزیر سلیم نے غاسنگ نالہ روڈ کی تعمیر کیلئے 12 ملین کا منصوبہ رکھا جس کیلئے غاسنگ کے ایک اہم سٹیک ہولڈر کی حیثیت شکریہ ادا کروں گا اور امید کے ساتھ مطالبہ بھی کروں گا کہ اس سڑک کی تعمیر کیلئے میرٹ کو یقینی بنانے کیلئے آپ خود براہ راست نگرانی کریں اور سڑک کی تعمیر کے ساتھ نالے کی از سر نو آبادی کاری کیلئے خصوصی گرانٹ رکھ کر شکریہ کا موقع دیں.
لیکن جہاں غاسنگ جو یونین کونسل مہدی آباد کا کم از کم تیس فیصد آبادی بنتا ہے وہیں انہوں نے بتول آباد (مکندہ فرد واحد ) کی زمینیں جو پہلے جامع محمدیہ ٹرسٹ کے پاس تھا، تک کی سڑک کی تعمیر کیلئے بھی 12 ملین رکھا ہے جو کہ غیر منصفانہ فیصلہ ہے. لہذا انکو اس حوالے سے نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے. عجب انصاف تقاضا ہے کہ ایک طرف فرد واحد کیلئے 12 ملین دوسری طرف یونین کونسل 30 فیصد آبادی کیلئے 12 ملین یہ سراسر ناانصافی ہے.
اسی طرح انہوں نے مہدی آباد ٹاون ایریا کیلئے Beautification فنڈ کے مد میں 5 ملین رکھا ہے. سوال یہ کہ مہدی آباد ٹاون ایریا کی خوبصورتی کیلئے آج تک یونین کونسل کے تمام فندز لگتے رہے ہیں اس بار بھی اتنا بڑا منصوبہ غاسنگ، منٹھوکھا اور منٹھونالہ کے عوام کی حقوق پر ڈاکہ ہے. کیونکہ جس قسم کی خوبصورتی کے خواہاں آپ مہدی آباد ٹاون ایریا کے ہیں، یہی خوبصورتی ہم اپنے علاقے میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں لہذا غاسنگ، منٹھوکھا جو کہ سیاحت کا مرکز بھی ہے اس علاقے کی خوبصورتی کیلئے خصوصی فنڈز کا رکھنا نہ صرف سیاحت کی فروغ کیلئے ضروری ہے بلکہ ہمارے عوام کا مطالبہ بھی ہے.
اسی طرح انہوں نے منٹھوکھا حسین زمبہ تک کی سڑک کیلئے بھی محدود فنڈ رکھا ہے، یہاں اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ یہ سڑک بھی سیاحت کی فروغ کیلئے حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے عوام کو براہ راست اس سے سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ عوام تو اپنی محدود زمینوں سے مزید ہاتھ دھو بیٹھے گا. لہذا اس سڑک کی تعمیر کو منٹھوکھا کے کھاتے میں ڈالنا بھی ناانصافی ہے، منٹھوکھا کے اکثریتی عوام کو مطالبہ آبشار سے لیکر تا لب دریائے سندھ proactive bund کا تھا جو آپ نے رکھا ہی نہیں جس طرح سے لسٹ میں لکھا ہوا ہے لہذا اس ہم منصوبے کیلئے کی طرف اگر کسی نے توجہ نہیں دلائی تو بدقسمتی ہوگی. لہذا کم از کم حسین زمبہ سے تا لب دریا سندھ protective bund کیلئے خصوصی گرانٹ رکھا جانا چاہیے.
اس کے علاوہ عاسنگ گرلز اسکول کی upgrade، غاسنگ، منٹھوکھا کیلئے سیوریج سسٹم، منٹھوکھا آبشار پر مناسب سیوریج کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ندی کا صاف شفاف پانی ہر گزرتے دنوں کے ساتھ خراب ہورہا ہے. لہذا میٹھے پانی کی مستقبل بچانے اور علاقے میں صفائی ستھرائی کیلئے مناسب بلدیاتی سسٹم، زرعی شعبے کی ترقی اور نئی آبادی کاری کیلئے خصوصی گرانٹ کا رکھنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے.
باقی کچھ ٹرانسفر اور واٹر چینل سادہ عوام کو تالی بجوانے کیلئے اچھا رہے کیونکہ تالی اور رقص ہمارے معاشرے کلچر ہے.

امید کرتے ہیں وزیر سلیم ہمارے خدشات کو دور کرنے کیلئے اہم کردار ادا کرے گا.

تحریر شیر علی انجم

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website