جب میں نے پہلی مرتبہ آصفہ بھٹو زرداری کو ملتان میں تقریر کرتے ہوئے دیکھا تو مجھے ایسا لگا کہ شہید بےنظیر بھٹو تقریر کر رہی ہیں۔ آج جب کشمیر میں تقریر کر رہی تھی تو مجھے لگا کہ ایک کم عمر بچی کتنی اتنی اچھی تقریر کر رہی ہے۔ حالانکہ اتنے بڑے مجموعے اور عظیم الشان جلسے سے محترمہ آصفہ بھٹو زرداری خطاب فرما رہی تھیں۔بی بی آصفہ کی تقریر عام عوام کی عکاسی کر رہی تھی ۔ان کی تقریر میں عام عوام کا دکھ واضح نظر آرہا تھا۔ انہوں کشمیر کی سرزمین میں عوام کی بات کی، بےروزگاری کی بات کی, مہنگائی کا سونامی کی بات کی اور پیپلزپارٹی کے منشور پر بات کی اسے کہتے ہیں سیاسی تربیت کا اثر۔
سندھ میں صحت کے شبعے پر انقلابی اقدام اور پیپلزپارٹی نے جو کارکردگی دیکھائی ہے اس کے اوپر بات کی۔۔ اور مسئلہ کشمیر پر بات کی,کشمیروں کے صحت کے مسائل, روڈ کے مسائل اور تعیلم کے مسائل پر بھی روشنی ڈالا۔
مجھے تو آصفہ بھٹو زرداری کی تقریر کے بعد شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی یاد آئی۔ کشمیر کے عوام کا پیپلزپارٹی سے لگاؤ کا انداز اس بات سے لگایا جاتا سکتا ہے۔
جب اموار کشمیر و گلگت بلتستان گنڈاپور نے بھٹو غدار کا نعرہ لگایا تو سامنے بیھٹا شخص نے گنڈپور کے منہ پر جوتا دے مارا۔ اور کچھ جیالوں نے ان کو انڈوں سے سلامی دی اور کچھ نے ان کی گاڑی پر بھی پتھرؤ کیا۔
امور کشمیر ۔
آصفہ کی تقریر سننے کےلئے عوامی سمندر امڈ آیا۔ اور جلسہ گاہ میں موجود جیالوں کا جذبہ قابل دید تھا۔ ہر سوں جئے بھٹو، جئے بےنظیر، جئے بلاول کے نعروں کی گونج ۔
اور جلسے میں موجودہ جیالوں کا جذبہ قابل دیدہ تھا ہر سوں سے جیئے بھٹو,جیئے بےنظیر اور جیئے بلاول کے نعروں سے پورا پنڈال گونج رہا تھا ۔ اور آخر میں وزیر اعظم بلاول کے نعرے سے جلسہ گاہ گونج اٹھا۔
اگر کشیمر کے انتخابات شفاف ہوتے ہیں تو ان شاء اللہ پیپلزپارٹی کشیمر میں ضرور حکومت بنائے گئی۔
تحریر: جمشید علی طیفور
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟