سانحہ کتی شو پر ایک نظر

0 0

الصبح گھر کے ساتھ ہی محلے میں کتیشو سے تعلق رکھنے والے ایک گھر سے شور شرابہ سنای دی قریب جا کر دیکھا تو گھر کے اندر کچھ افراد اور خواتین کسی لڑای جھگڑے کی بات کر رہے تھے اور عورتیں رو رہے تھے۔ اندر سے ایک شخص باہر نکلا اور ہمارے سوال پر جواب دیتے ہوے کہا کہ مہدی آباد والوں نے ہمارے گاوں پرحملہ کر کے ہمارے لوگوں کو مارا ہیں اور جگھڑا ابھی بھی جاری ہے ۔ یہ سنتے ہی دل میں خیال ایا کہ مہدی آباد والے اور لڑای جھگڑے یہ کبھی نہیں ہو سکتے خیر اس خبر کی مزید تحقق کیلے ہم نے وہاں کے دوستوں سے مزید معلومات لیا ساتھ ہی کتیشو کے لوگوں سے بھی اس متعلق تفصیل لیا تب معلوم ہوا کہ واقعی میں مہدی آباد کے پڑھے لکھے لوگوں نےعدالتی و جرگے کے فیصلے کو روندتے ہوے جم غفیر نے بیچارے کتیشو داپا کے عوام اور ناموس پر حملہ کر کے عورتوں کو لہولہان کر دیے تھے۔ ضلع کھرمنگ پاکستان سمیت گلگت بلتستان میں امن امان و ادبی ثقافتی و دیگر لحاظ سے باقی تمام اضلاع سے بہتر سمجھا جاتاہے یہاں ہزاروں سیاح آتے ہیں اور اچھے تاثرات لے کر جاتے ہیں مہدی آباد جہاں سے علم نور کا آغاز ہوے جہاں سے شیخ حسن جیسے جید علما نکلے جہاں سے ڈاکٹر وزیر صادق جیسے اعظیم مسیحا نکلےجس نے ملکی دفاع کیلے کرنل یونس جیسے فرزند پیدا کیے جہاں سے عالمی شہریت یافتہ جج وزیر شکیل نکلےجہاں مادر علمی محمدیہ ٹرسٹ جو کہ لاکھوں غریب نادار بے سہارا افراد کیلے علم کا سرچسمہ اور روزگار کی زرایع سمجھا جاتا ہے وہاں کے لوگ کیسے اور کیوں اتنا سنگدل ہو گیے ۔ کہتا ہے نا ایک مچھلی پورے تالاب کو خراب کرتا ہے کیا یہاں ایسا ہی رونما ہوے ہیں یا جان بوجھ کر ایسا کیا گیا یا کرایا گیا ہے ۔۔۔ نہایت افسوس کی بات ہے حالیہ کتیشو داپا اور مہدی آباد واقعہ نے نہ صرف ضلع کو بلکہ پورے علاقے کو بدنام کر دیا ۔ کتیشو داپا مہدی آباد بازار سے مشرق کی جانب کچہ سڑک سے تقریبا تین گھنٹے کی مصافات پر واقع ہے جہاں ایک چراگاہ ہے جسے گڑوے تھنگ کہا جاتا ہے کیلے دونوں گاوں کے درمیان کٸ سالوں سے جھگڑا چل رہا تھا حال ہی میں مقامی لوگ جن میں علما سرکردگان بھی شامل ہیں نے اس ایشو کو ہوا دے کر معاملے کو سگین بنا دیا جس سے نہ صرف علاقہ بدنام ہوا بلکل اس کی تشخص کو مجروح کر دیا اب دنیا کی ساری طاقت جمع کرے تب بھی وہ تشخص لوٹ کر نہیں لا سکتے جو اس سے پہلے اس خطے کو حاصل تھے۔ اس کا زمہ دار کون ہو سکتا ہے مہدی آباد یا کتیشو داپا یقینا یہ دنوں گاوں اور یہاں بسنے والے لوگ زمہ دار ہیں ۔ یہاں نہ صرف عام انسان بلکہ حوا کی بیٹیوں پر جس انداز میں تشدد کی اس کی مثال نہیں ملتی نیز حیوان بھی مارے گیے اور اب یہ تاریخ میں پتھر پر لکیر کی مانند ہے۔جہاں تک ان سے سنا اور دیکھا حقایق اکھٹا کر کے نتیجہ کچھ اس طرح نکلا کہ اس چراگاہ پر عدالت میں کیس چل رہا تھا اور باقاعدہ سیشن جج کھرمنگ نے اس کا سٹے آرڈر جاری کر کے مھدی آباد کے سرکردہ و مختار صوبیدار غلام حسین کے نام 24 جون واقعے سے دو دن پہلے جاری کر کے دونوں کو چراگاہ پر مویشیوں کو لے جانے سے روکا گیا تھامزید اس آرڈر میں عدالت یکم جولائی کو پیش ہوکر عدالتی فیصلے کو برقرار رکھنے یا اپیل کرنے کے حوالے سے جواب داخل کرانے کا حکم دیا تھا لیکن مہدی آباد عوام نے عدالتی فیصلے کی دھجیاں اڑاتے ہوے مھدی آباد کے مسلح لشکر کو چراہ گاہ تک لے گیے۔عدالت 24 جون کو بنام SHO مھدی آباد سٹے آرڈر سے متعلق اگاہ بھی کیا لیکن بروقت کاروائی کرنے میں ناکام رہا ایک اور اہم بات یہ کہ تحصیلدار دفتر میں ہونے والے معاہدے کا ہے جو کہ مھدی آباد کے لوگوں کی خواہش اور مال مویشیوں کے غذائی قلت کی درخواست پر کیا گیا جس میں شریعت سے رجوع کرنے اور شرعی فیصلے میں تاخیر کی صورت میں 4 دن کے بعد بحفاظت مال مویشی چراہ گاہ لے جانے پر رضامندی کی ، لیکن اگلی صبح ان تمام پہلو کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ہزاروں افراد جن میں عام عوام کے علاوہ سرکاری ملازمین سمیت معاہدے میں موجود لوگ سرکردگان کی سرپرستی میں چڑھائی کی. یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ چڑھای کرنے والوں نے کہا کہ معاہدہ کرنے والوں نے عوام کو بروقت آگاہ نہیں کیا جس وجہ سے یہ سانحہ پیش آی ایسا ہی ہے تو جنہوں نے اس معاہدے میں شرکت کی ان میں اکثریت لشکر کی قیادت کیوں کی ؟کیا تحصیلدار و انتظامیہ مشتعل ہجوم کو معاہدے کے بارےمیں آگاہ نہیں کیا? زرایع نے کہا کہ مہدی آباد کے سرکردہ شیخ عابدین (سرپرست معاہدہ مہدی آباد ) گاڑی کی چھت پہ بیٹھ کر مسلح لشکر کی حوصلہ افزای کر رہے تھے ۔دوسری جانب صبح 8:30 تک ڈی سی کھرمنگ کو کوئی خبر نہ تھی کہ حالات یہاں تک آنپونچی ہے۔

کیا ڈی سی کھرمنگ کو واقعہ سے لاعلم رکھا ڈی سی کھرمنگ نے اس ناخوشگوار واقعہ سے لاعلم رکھنے پر کسی ماتحت عملہ یا ایس ایچ او تھانہ مہدی آباد کے خلاف کوئی انکوائری یاچارج شیٹ جاری کیاہے۔؟ دوسری جانب صبح 8:30 تک ڈی سی کھرمنگ کو کوئی خبر نہ تھی کہ حالات یہاں تک آنپونچی ہے۔ کتیشو کے امام جمعہ جو کہ اسی سانحے میں شدد زخمی ہوے کے مطابق اس نے ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ڈی سی کھرمنگ کوفون کر کے اس متعلق اگاہ کیا تو ڈی سی کھرمنگ نے بتایا کہ وہ سورہاہے اورتسلی دی کہ آپ سکون سے رہے ۔مہدی آباد والے مال مویشی نہیں لائیں گے۔ امام جمعہ نے بتایا کہ اسنے ہی ڈی سی کھرمنگ کو اپنے ہاں گاؤں میں حملہ لانے کی بھی اطلاع دی اور ڈی سی نے معاملے کو سنجیدہ نہ لیتے ہوے امام جمعہ کتیشو کوبتایا کہ مہدی آباد والے کوئی مال مویشی چراہ گاہ کی طرف نہیں لائیں گے تعجب ہے کیا ڈی سی کھرمنگ مورخہ26 جون 2021 کو واقعی 8:30 بجے تک سورہا تھا ۔اگر یہ حقیقت ہے تو ان تمام نقصانات سمیت برسوں سے اکھٹے پیار محبت بھای چارگی سے رہنے والے دو گاوں کو اپس میں سوچی سمجھی سازش کی تحت لڑوایا گیا ۔ دونوں جانب کے سرکردگان اب یہ مطالبعہ کر رہے ہیں کہ اس سانحے کی شفاف تحقیقات کیلئے ایک غیرجانبدار جے آئی تشکیل دی جائے. جو اصل حقایق کو نکال کر غلطی کرنے والوں کو سزا دیا جاے انہوں نے مزید کہا کہ کتیشو، مہدی آباد عوام کے مابین پیش آئے ناخوشگوار واقعہ میں غفلت برتنے پر متعلقہ پولیس اورضلعی انتظامیہ کے خلاف انکوائرئ کمیٹی بٹھایا جاے ۔کیا 8:30 بجے تک کسی انتظامی مخبر نے ڈی سی کھرمنگ کواطلاع ہی نہیں دی تھی کہ وہ اپنی فرائض منصبی کواداکرتے۔؟

اوراس میں غلفت برتننے والے کے خلاف محکمہ کارروائی ضروری ہے تاکہ آئندہ بھی اسطرح کے ناتجربہ کار ، متعصب ، جانبدار اورغافل افراد کی وجہ سے مزید علاقہ عوام لڑائی میں متبلا نہ ہو۔اس دلخراش واقعے میں ونوں گاوں کے نہ صرف لوگ زخمی ہوے بلکہ ناموس کو جس انداز میں مارا گیا اس کی نذیر نہیں ملتی ۔ جس طرح ایک حاملہ عورت کو بھی مار مار کر اس کی حمل تک زایع کیا اس طرح کی حرکتیں شاید آج تک نہیں دیکھا نا ہی سنا ۔یہاں ہم صرف مہدی آباد سے تعلق رکھنے والے ان درندوں کی بزدیلانہ فعل کی مزمت کرتے ہے بلکہ داپا کےعوام سے بھی لاکھ شکایات ہے کہ انہوں نے ناموس کو کس لیے میدان میں آنے دیا ظاہری بات ہے ویسے تو عورت وہاں پہنچی نہیں ہو گی ۔بحرحال جو کچھ ہوا انتہای غلط اور سراسر نا انصافی ہوی۔وزیر اعلی گلگت بلتستان وزیر ورکس وزیر سلیم سعدیہ دانش وزیر اطلاعات فتح اللہ اپوزیشن لیڈر امجد ایڈوکیٹ سمیت سوشل میڈیا و دیگر پلیٹ فارمز سے خاتون کی حق میں مسلسل بیان اور اواز بلند کرنے پر خاتون پر تشدد میں ملوث 2 ملزمان کو ڈی ایس پی کھرمنگ اور ڈی ایس پی گانچھے کی قیادت میں ایس ایچ او سٹی تھانہ سکردو اور انچارچ تھانہ مہدی آباد نے گرفتار کر کے خلاف دفعہ 3/21 ، سیکشن 354 ،324 ،337 کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ یہاں پولیس کے اس بہادر جوان کی جرت مندانہ فعل و بہادری کی تعریف نہ کرے زیادتی ہو گی جس نے زخمی عورت کو ان سفاگ درندوں سے نہ صرف بچایا بلکہ خود ہی فرسٹ ایڈ دے کر ایک گھنٹہ تک پیٹھ پر بیٹھا کر لایا جہاں شاربہ فاونڈیشن کے ایمبولینس اور ٹیم ڈاکٹر سید طیب کی قیادت میں عورت کو لینے پہنچے تھے ۔سلام پیش کرتا ہوں ایسے مرد جری بہادر پولیس اہلکار قربان علی اور عوامی مسیحا و شاربہ فاونڈیشن کو جنہوں نے بروقت کویک ریسپونس دے کر ایک ماں کی جان بچای یقنا اس کی اجر دنیا آخرت میں اللہ ضرور عطا فرمانگے امید ہےقانون نافظ کرنے والے ادارے حوا کی بیٹی کو انصاف فراہم کر کے مجرموں کو سخت سزا دینگے۔اور جس چراگاہ کیلے یہ سب رونما ہوے اس کی مستقل حل کیلے اقدامات اٹھاینگے

 

 

 

تحریر :مظاہر ہلال آبادی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website