مساج سنٹر کی آڑ میں مبینہ فحاشی کے دھندے میں ملوث خواتین اور مردوں کے خلاف وفاقی پولیس کا دبنگ کاروائی

0 0

اسلام آباد (شبیرسہام)وفاقی پولیس نے بحریہ ٹاؤن سوک سنٹر میں واقع مساج سنٹر ” بلیو سٹون اینڈ سپا” پر چھاپہ مارتے ہوئے کئی “شرفاء” کو بنا لباس کے قابل اعتراض حالت میں دھرلیا۔ پولیس نے مساج سنٹر کی آڑ میں مبینہ فحاشی کے دھندے میں ملوث خواتین اور مردوں کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔ اس موقع پر مساج سنٹر سے پکڑے گئے ایک “صاحب” کی پولیس آفیسر سے ہونے والی گفتگو ویڈیو میں واضح طور پر سنی جاسکتی ہے۔ جو اپنا تعارف پارلمینٹ ہاؤس کے سرکاری آفیسر کے طور پر کراتے ہوئے کہتا ہے کہ میں پرویز خٹک کے ساتھ ہوتا ہوں۔ جس پر چھاپہ مار ٹیم میں شامل ایک آفیسر نے انہیں کہاکہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ ہم پرویز خٹک کو یہ بتائیں کہ آپ کا ملازم برہنہ حالت میں خواتین کے ساتھ پکڑا گیا ہے؟ جس کے جواب میں وہ صاحب فوری بولے کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ! اور بھی جگہ ہیں غلط کام کے لئے !! آفیسر دوبارہ گویا ہوئے کہ آپ تو بات ہی نہ کریں۔ آپ کو ہم نے برہنہ حالت میں دیکھا ہے !! بعدازاں موقع سے پکڑے گئے تمام مرد و خواتین کو پولیس وین میں تھانے منتقل کر دیا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن سمیت اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں مساج سنٹرز کی آڑ میں عصمت فروشی کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح شیشہ سنٹرز کی بھی بھرمار ہے۔ ان “اڈوں” کی سرپرستی مبینہ طور چند نام نہاد میڈیا پرسنز کے علاوہ پولیس و انتظامیہ کے کرپٹ اہلکار کر رہے ہیں ۔جو ان سے اپنا “حصہ” وصول کرتے ہوئے بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان کرپٹ عناصر کے خلاف آج تک کارروائی نہ ہوسکی۔دوسری طرف”تحریر نیوز ” نے ایس پی رورل رانا عبدالوہاب سے موقف کے لئے رابطہ کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ مساج سنٹر “بلیو سٹون سیلون اینڈ سپا” کی انتظامیہ نے ٹیلی فونک رابطے پر اپنا موقف دیتے ہوئے بتایاکہ قبل ازیں بھی پولیس دو مرتبہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر یہ سیلون سیل کرچکی ہے۔ تین روز قبل رات پونے آٹھ بجے چھاپہ مار ٹیم دوبارہ آئی اور ہمارے دو کلائنٹس اور سٹاف میں شامل چار افراد جن میں دو غیرملکی بھی شامل تھے کو حراست میں لے لیا۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ گرفتار کئے گئے سٹاف میں عون اور عامر جبکہ لڑکیوں میں عائشہ اور ماہم شامل ہیں۔ چھاپہ مار ٹیم کے ساتھ لیڈیز پولیس بھی نہیں تھیں۔ ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ چھاپہ اسپیشل مجسٹریٹ کے اختیارات پانے والے ایکسائز آفس کے آفیسر علی پیرزادہ کی سربراہی میں مارا گیا تھا جنہیں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے صرف کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے اور پرائس چیکنگ کے اضافی اختیارات سونپے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ “بلیو سٹون سپا” سے گرفتار ہونے والی عائشہ نامی لڑکی کو اسی رات تھانے سے چھڑوا لیا گیا تھا جبکہ باقی گرفتار افراد کو اگلے روز مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق کومل سپا اور سٹار سپا پر بھی اسی رات چھاپے مارے گئے تھے اور گرفتاریاں کی گئی تھیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website