گلگت بلتستان کے سماج میں ذیادہ تر خواتین چادر اور چار دیواری کےاندر زندگی گزانے کو معاشرتی رواج اور اپنا حق سمجھتی ہے۔ خاص طور پر سیاست میں خواتین کی شمولیت خطے کی آبادی کے تناسب سے بلکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے بہت سے علاقے ایسے بھی ہیں جہاں خواتین کی سیاست میں شمولیت بہت دور کی بات ہے بلکہ ووٹ ڈالنے تک کی بھی اجازت نہیں ہوتے۔ ہم نے حالیہ الیکشن میں دیکھا کہ دیامر ڈویژن کے کئی حلقوں میں خواتین کی پولینگ اسٹیشنپرپر ووٹ کاسٹینگ نہ ہونے کے برابر تھی جس کی بنیادی وجہ معاشرے پر مسلط وہ سخت گیر مذہبی طبقہ ہے جن کے نزدیک نہ صرف جمہوریت کو غیر اسلامیسمجھتے ہیں بلکہ اُس سماج میں خواتین کی آذادی فقط شادی کرنا اور گھر تک محدود قبائلی رواج ہوا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان قبائلی علاقوں کے حوالے سے ہر کوئی اگاہ ہے کہ یہاں لڑکیوں کیلئے اسکول جانابھی اتنا آسان نہیں اور ماضی میں اسکول جلانے کے واقعات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس معاشرے میں جب کوئی انالاحق کا نعرہ بلند کریں تو اندازہ لگائیں کہ کس قسم کے معاشرتی مسائل سامنا اور سخت گیر مولویوں کا ردعمل آسکتا ہے۔ لیکن ضلع دیامر کے پسماندہ ترین قبائلی علاقہ تحصیل داریل سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ ثریا زمان نے معاشرتی زنجئیروں کو توڑ کر میدان سیاست میںقدم رکھ کر تحریک انصافکے ٹکٹ پر گلگت بلتستان کی کم عمر رکن اسمبلی اور دیامر کی تاریخ میں پہلی خاتون سیاست دان ہونے کا اعزاز اپنے نام کردیا۔ثریا زمان گلگت بلتستان کے معروف سیاست دان اور رہنما تحریک انصاف ڈاکٹر محمد زمان صاحب کی بیٹی ہے جنکی عمر صرف 23 سال ہے۔ اُنہوںنے ابتدائی تعلیم طائف سعودی عرب سے حاصل کی ہے۔ اُن کے والد ڈاکٹر محمد زمان کے مطابق ثریا زمان کو عربی ،انگریزی سمیت چار زبانوں پر عبور حاصل ہیں۔ یعنی موجودہ اسمبلی میں اتنی زبانوں پر عبور رکھنے والی واحد رکن ہے جس نے نمل یونیورسٹی اسلام سے انگلش ریسرچ اینڈ لنگوسٹک میں ماسٹر بھی کی ہے ۔ لیکن بدقسمتی ایک کم عمر لڑکی جس نے سماج کو زنجئیروں کو توڑ کر اقتدار کے ایوان میںقدم رکھتے ہی جہاں دیگر تمام ممبران مبارکبادیاں وصول کرنے میں مصروف تھے مگر ثریا زمان نے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ عوامی مسائل سُنی صحت اور تعلیم کو درپیش مسائل کی حل کیلئے کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔غذر میں ہسپتال کیلئے نقد امداد کا اعلان اور اے ڈی پی سے فنڈز دینے کا اعلان کیا۔ صرف یہ نہیں بلکہ تاریخ میں پہلی بار داریل جیسے علاقے میں عوامی اجتماعات سے خطاب کی اور تعلیم کی اہمیت اور لڑکیوں کو تعلیم دینے پر زور دیا۔ لیکن بدقسمتی سے تبدیلی سرکار کے کابینہ نے خواتین کو اس قابل نہیں سمجھا کہ کسی ایک خاتون رکن اسمبلی کو وزارت کا عہدہ دیں جو کہ افسوس کی بات ہے۔ کم ازکم ثریا زمان جیسی باہمت نوجوان رکن اسمبلی کو وزارت ملنا چاہئے تھا تاکہ معاشرے میں مزید تعلیم یافتہ خواتین کو میدان سیاست میں قدم رکھنے کا شوق پیدا ہو۔وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو چاہئے کہ ثریا زمان کوحوصلہ افزائی کیلئے اُنہیں مشیر تعلیم یا انسانی حقوق کیلئے وزیر اعلیٰ کا خصوصی مشیر بنائیں جس کے اختیارات وزیر کے بابر ہو تاکہ دیامر جیسے علاقے سے مزید ثریا زمان سیاست کے میدان میں قدم رکھ سکے۔
تحریر: شیر علی انجم
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟