اسپیکر فدا محمد ناشاد کو تاریخی شکست دینے والے وزیر سلیم کو عوام کیا مشورہ دیتے ہیں؟، سروے رپورٹ

0 0

کھرمنگ (ٹی این این سروے رپورٹ) 1994 سے مختلف پارٹیاں بدل کر جی بی ایل اے 9 سکردو حلقہ تین کے اقتدار پر قابض حاجی فدا محمد ناشاد کو تاریخی شکست دیکر رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہونے محمد سلیم کے حلقے میں ابھی تک جشن کا سماں ہے. حلقے کے عوام ناشاد کی ہار کو ایک طرح سے آزادی ملنا سمجھتے ہیں اس حوالے سے منفرد قسم کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر عوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس میں عوام ناشاد کی ہار سے کافی خوش نظر آتا ہے.
تحریر نیوز نیٹ ورک کی سروے ٹیم نے گلتری اور حسین آباد کے علاوہ تمام علاقوں میں وزیر سلیم کے حوالے سے عوامی رائے جاننے کیلئے ایک سروے کی جس میں سوال رکھا کہ وزیر سلیم کو کس پارٹی میں شامل ہونا چاہیے اور انکی اولین ترجیحات کیا ہونی چاہیے.
اس سروے میں زیادہ تر عوامی حلقوں نے وزیر سلیم کو مشورہ دیا کہ وہ وزیر شکیل طرح غلطی نہ کریں عوام کے درمیان موجودگی کو یقینی بنائیں اور عوامی مسائل کی حل کیلئے مخصوص افراد کے بجائے ہر علاقے کی اہمیت اور ضرورت کے مطابق اپنی کارکردگی کو میرٹ کی بنیاد پر عملدرآمد کرنے کیلئے باقاعدہ میکنزم بنائیں. کچھ افراد کا یہ خیال تھا کہ وزیر سلیم عام حالات میں بھی ایک سماجی رہنما کے طور پر معروف ہیں لہذا وہ ڈیلیور کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے کیونکہ زمینی حقائق اور علاقے کے دیرینہ حل طلب مسائل جس میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور زراعت کیلئے مواقع پیدا کرنے جیسے اہم مسائل شامل ہیں جس پر کبھی ناشاد نے توجہ ہی نہیں دی، وہ خوب واقف ہیں. اسی طرح کچھ افراد کا کہنا تھا کہ وزیر سلیم کی اولین ترجیح حلقے میں میرٹ کی بالادستی کیلئے کام کرنا ہوگا کیونکہ ناشاد نے جہاں ترقیاتی کام نہیں کئے وہیں سرکاری نوکریاں بھی آج تک صرف اپنے سیاسی سپورٹز میں تقیسم کرتے رہے ہیں.کچھ سرکاری ملازمین اور اساتذہ سے ہم نے رائے لی تو مشورہ دیا کہ وزیر سلیم سکردو کرگل روڈ کو سیاحت وتجارت کیلئے کھولنے کوشش کو اولین ترجیح میں رکھیں جس سے نہ صرف کھرمنگ بلکہ پورے گلگت بلتستان میں سیاحتی انقلاب برپا ہوگا اور لوگوں کو روزگار کے مواقع پیدا ہونگے. انکا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر سلیم عوام سے کئے ہوئے وعدوں پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کریں.
اُنکا کسی پارٹی میں شمولیت کے سوال پر زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ انکو پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ اس پارٹی سے انکا تعلق ان کے مرحوم والد کے زمانے سے ہیں اور پاکستان کی بڑی جمہوری پارٹی بھی ہے. جب کہ کچھ لوگوں نے انکو حکومت کے ساتھ شامل ہونے کا مشورہ دیا اور کچھ افراد کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں کی الگ جماعت بنانے کیلئے انکو کردار ادا کرنا چاہیے.
نوٹ. اس سروے کو مکمل کرنے کیلئے (ٹی این این) نے محدود نیٹ ورک کی وجہ سے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنماوں سے بھی خدمات حاصل کی جنہوں اپنے علاقوں سے ڈیٹا اکٹھا کرکے سروے کو مکمل کرنے میں ہماری مدد کی.

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website