کس پارٹی کو کتنا سیٹ ملنے کا امکان ہے؟ اور کونسا امیدوار جتنے کی پوزیشن میں ہے؟ تحریر نیوز کی تفصیلی سروے رپورٹ انتخابات 2020 گلگت بلتستان

0 0

سکردو (تحریر نیوز نیٹ ورک) گلگت بلتستان میں 2020 انتخابات 15 نومبر کو ہونے جارہا ہے اور مختلف سیاسی پارٹیوں کو کیا مشکلات ہے اس حوالے سے تحریر نیوز کی ٹیم نے ایک رپورٹ ترتیب دیا ہے جو چند حقائق پر مبنی ہے 2015 انتخابات میں حکومت بنانے والی سب بڑی پارٹی مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے بلتستان کا دیرینہ مطالبہ حل کردیا تھا اور بلتستان یونیورسٹی اور گلگت سکردو شاہراہ بنایا اور گلگت سکردو شاہراہ پر دنیا کی بہترین پل بنایا جو 2015 کی انتخابات سے پہلے میاں محمد نوازشریف نے اعلان کیا تھا اور اپنے منشور پر عمل کرکے دکھایا اور بلتستان کے سات حلقوں سے جیت بھی نصیب ہوئی اور انتخابات کے بعد جب اختیارات مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت کے ہاتھوں ایا تو گلگت بلتستان کی محکمانہ پروجیکٹ میں بلتستان کو مکمل نطر انداز کرکے رکھا دیا اور پانچ سالہ دور میں وزیر برقیات کا تعلق سکردو سے ہونے کے باوجود ایک میگاواٹ کا بجلی گھر بھی نہیں بنایا جس کی وجہ سے بجلی بحران پوری دنیا میں سب سے زیادہ سکردو شہر میں جاری ہے اور ن لیگ کو بلتستان سے ایک بھی سیٹ ملنے کا کوئی پوزیشن نہیں ہے باقی دیامر سے ایک سیٹ ملنے امکان ہے اور ن لیگ کی مقامی قیادت حفیظ الرحمان جو ڈیکلیئر بن کر رہا اور بلتستان ریجن کو اپنے سالہ دور حکومت میں مکمل نظر انداز کیا یہ دونوں پروجیکٹ بھی نواز شریف نے وفاقی فنڈز سے تعمیر کیا اور باقی بلتستان ریجن دیامر ریجن کو مکمل نظر انداز کرنے کی وجہ سے بھی ن لیگ کو بری طرح شکست ہورہا ہے اور ن لیگ نے گلگت شہر کو جنت بنایا ہے اس کے باوجود ن لیگ گلگت سے بھی ہارنے کی پوزیشن میں ہے حفیظ الرحمان جیت گیا تو معجزہ ہوگی وہاں سے بھی جمیل کا پوزیشن بہتر ہے اپنے ابائی علاقہ کشروٹ سے جبکہ فتح اللہ کا علاقہ جگلوٹ ہے وہاں سے اس بار حفیظ کو ووٹ ملنا مشکل ہے اور یہ حال ہوا کہ ن لیگ کو امیدوار نہیں ملا ہے کافی نئے چہروں کو سامنے لایا ہے اور پاکستان پیپلزپارٹی کی بات کریں تو پی پی بھی بڑی مشکل سے تین یا چار سیٹ جیت سکتا ہے بلاول بھٹو گذشتہ دو سالوں سے گلگت بلتستان کا دورہ کررہا ہے اس کے باوجود تین چار سیٹ جیت بھی لینے کے پوزیشن میں ایا ہے ورنہ پی پی 2015 میں ایک سیٹ جیت لیا تھا سکردو حلقہ ون میں کانٹے دار مقابلہ ہے راجہ زکریا کا پلہ تھوڑا بھاری ہوا ہے کیونکہ اسلامی تحریک کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہونے کی وجہ پوزیشن کافی مظبوط نظر اہا رہا ہے جبکہ نگر سے بھی امجد ایڈووکیٹ کیلئے مشکلات پیدا کیا ہے اور امجد ایڈوکیٹ کو گلگت حلقہ ون سے مشکلات ہیدا کیا ہوا ہے پی پی کے دو تین سیٹ جیتنے کے پوزیشن میں ہے اگر محنت کیا تو ورنہ 15 تاریخ کو کچھ اور بھی ہونے کا امکان ہے جسا کہ کل بلاول بھٹو کو جلسہ کرنے سے روکا گیا وہ بھی اسی کی ایک کڑی ہے اخر میں وفاقی حکومت کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی کیا پوزیشن ہے ؟ اور پاکستان پی ٹی ائی کے پاس کئی ایسے امیدوار ہیں جن کے پاس اپنا شخصی ووٹ بنک ہے ان تمام امیدوار کو اپنے پاس ن لیگ سے چھین لیا مگر یہ سارے امیدوار جب سے سیاست شروع کیا اس دن سے لوٹا کریسی کو اپنا شیوا بنایا ہوا وفاق کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اس بار ان لوٹوں کو بھی سخت مشکلات ہے جیتنا مشکل ہے پاکستان تحریک انصاف نے مذہبی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے حکومت بنانے کی پوزیشن میں اگیا یے ورنہ شروع کے چند دن پی ٹی ائی کا پوزیشن بہت نازک حالت میں تھا اب وفاقی وزراء کے دورے اور اعلانات کی وجہ کافی بہتر ہوا ہے اب حالات ایسا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو 9 ۔10 سیٹ مل جائے گا ،MWM کے دو سیٹ اور اسی طرح پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں اگیا ہے

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website