گلگت بلتستان میں سیاسی لنڈا بازار..

0 0

گلگت بلتستان کی سیاست میں ہلچل تب دیکھنے میں آئی جب وفاقی پارٹیوں کے سربراہان نے گلگت بلتستان کا رُخ کیا. علی امین گنڈا پور کے بعد بلاول بھٹو زرداری کی انٹری پھر عمران خان کی اور چار تاریخ کو اپنی حکومت مخالف مہم چھوڑ کر مریم صاحبہ نے بھی گلگت کا رُخ کیا. گلگت بلتستان آرڈیننس 2009 کے بعد یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی الیکشن کمپین ہے جس میں مین اسٹریم پولیٹیشنز نے حصہ لیا ہے. کچھ لوگوں کا خیال ہے کی ملک میں سیاسی درجہ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے پارٹی لیڈز گلگت بلتستان میں تھوڑی ٹھنڈ اور خزاں کے مزے لینے آئے ہیں. کیوں کہ ڈرائی فروٹس کے کمرے کُھلنے کا موسم ہے گلگت بلتستانی مہمان نواز ہیں تو خوب خدمت کریں گے. وہی سیاسی جماعتوں کے کارکنان یہ سمجھتے ہیں کہ پارٹی لیڈران کی موجودگی الیکشن میں ان کے لیے ٹرمپ کارڈ ثابت ہوگی. ہر ضلع کے کوچے کوچے میں پارٹی پرچموں کی بہار ہے. کہیں اسپیشل اسٹیٹ یعنی عبوری صوبہ بنانے کے اعلانات ہوئے اور کہیں ان اعلانات کے خلاف ردعمل میں للکاریں سنائی دینے لگیں، کوئی اپنے باپ دادا کا واسطہ دے کر ووٹ مانگ رہا ہے تو کہیں کوئی اپنی پرفارمنس کی بنیاد پر، کوئی تبدیلی کے نعرے کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش میں لگا ہے تو کہیں سے آواز آتی ہے گلگت بلتستان کو تباہ کر دیا ہے ہم بدل لیں گے. سیاسی قائدین ایک دوسرے پر نشتر برسا رہے ہیں اور لوگوں سے اس کے بدلے ووٹ کا تحفہ چاہتے ہیں. علی امین گنڈا پور صاحب کی تو تقریریں ہی نرالی ہیں کہیں کہتے ہیں جتنے ووٹ اتنے کروڑ کہیں ہسپتال کا اعلان تو کہیں تین ہزار کی لیڈ دینے پر پیسوں کی ریل پیل کی باتیں کر رہیں ہیں. ان سب کے درمیان ایک نواز خان ناجی ہیں جو کہتے ہیں مجھے حکومت نہیں مجھے اپوزیشن ہی میں بیٹھنا ہے ہاتھ جوڑ کر کسی وزیر کے زیر سایہ کام کرنے سے انکاری ہیں. ایک طرف ابھی بھی کچھ لوگ اس پارٹی سے اُس پارٹی میں اچھل کود کر رہیں ہیں. ملکی سیاست نے لگتا ہے گلگت بلتستان کا رخ کر لیا ہے. ہر جلسے میں لوگوں کا سمندر امڈ آتا ہے. سب کو خوش کرا رکھا ہے. بہت سارے تو صرف ایک بار ملکی سیاستدانوں کو سامنے سے دیکھنے کے غرض سے آتے ہیں اور خوب نارابازی کرتے ہیں عمران خان کے دھرنے کے دن یاد آگئے ہیں جہاں ہر کوئی محوِ رکس تھا. اب گلگت بلتستان میں سردی نے اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے اور لوگوں کے ازہان جمنے لگے ہیں، شاید وہ یہ برف پیگلا نہ پائیں اور ایک بار پھر وہی غلطی دہرا دیں جو پچھلے الیکشنز میں کر چکے ہیں. شاید وہ سیاسی نقالوں کے جانسے میں پھر سے آجائیں کیوں کی سردیاں آچکی ہیں. بازار میں لنڈے کا باؤ آسمانوں پر ہے. اور سیاسی لنڈا بازار وہی پروموٹ کر رہا ہے جو ہم پہلے پہن چکے ہیں. جو کی اس موسم میں ناکارہ ثابت ہوا ہے
از انیس بیگ.

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website