گلگت ( تحریر نیوز) گلگت حلقہ نمبر دو تحصیل جگلوٹ کے علاقے گاشو میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی کچھ تصویریں سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی تو بہت سارے درد دل رکھنے والوں نے جنگلات کی کٹائی کا سارا الزام محکمہ جنگلات کے ذمہ داروں پر ڈال کر مسلے کے ذمہ داران کا آپنی دانست میں تعین کردیا۔ لیکن باوثوق ذرائع کے مطابق اصل صورتحال کچھ اور ہے۔ مسلم لیگ کی مقامی حکومت کرپشن کرنے تکنیکی مہارت سے مالا مال ہے اور جب اس طرح کا بڑا کرپشن وزیر اعلیٰ کے حلقے میں ہورہا تو کسی کی مجال نہیں کہ اُن سے پوچھ گچھ کریں۔ یاد رہے عمارتی لکڑی کی آہمیت اور اسکی قدر و قیمت سونے کے برابر ہے اور وزیراعلی کے حلقے کا یہ گاؤں گاشو جنگلات کی نعمت سے مالا مال ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹمبر مافیا کے کچھ سرکردہ ممبران نے حلقے کا نمائندہ جووزیراعلی بھی ہے کی پشت پناہی کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اورحفیظ الرحمن نے ٹمبر مافیا کے خلاف محکمہ جنگلات کے ذمہ داروں کو خاموشی رہنے کا حکم دیا ہوا ہے کیونکہ ٹمبر مافیا اور حفیظ الرحمن کا گٹھ جوڑ اور کاروباری پارٹنر شپ ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ حفیظ الرحمن نہ صرف گاشو کے جنگلات کا قتل عام کروا رہا ہے بلکہ حراموش کے جنگلات کے قتل عام میں ٹمبر مافیا کے ساتھ ملوث ہے اور دیگر سرکاری ٹھیکوں کی طرح یہاں سے بھی باقاعدہ وصولی کرتے ہیں۔
چیف سکرٹیری کو چاہئے کہ اس معاملے کی تحقیقات کیلئے خصوصی کمیٹی بنائیں تاکہ دودھ کا دوھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا