گلگت( تحریر نیوز) صدر سپریم اپلیٹ کورٹ سنئیر بار ایڈوکیٹ احسان علی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی موجودہ اسمبلی ایک بے اختیار ادارہ ہے اس اسمبلی کے اجلاسوں میں کچلے ہوئے عوام کے مسائل و مشکلات کی حل کیلئے اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔گلگت بلتستان میں پیدا ہونے والی دولت وسائل دولت اور پیداوار کو کنٹرول اور اسے تقسیم کرنے کا اختیار غیر منتخب لوگوں کے پاس ہے۔ عوام کی معشیت کو ترقی دینے مقامی طور پہ پیدا ہونے والی انڈسٹریل را مٹیریل کی بنیاد پہ یہاں کارخانے لگانے، ہائیڈل پاور کے پراجیکٹس کیلئے سرمایہ کاری لانے کا اختیار بھی اس اسمبلی و حکومت کے پاس نہیں اور نہ ہی بے لگام بیوروکریسی اور دیگر ریاستی ادارے اسمبلی کے زیر کنٹرول نہیں بلکہ یہ ریاستی ادارے اور بیوروکریسی اسمبلی و حکومت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ممبران ان بنیادی عوامی ایشوز پہ تحریک چلانے کیلئے تیار نہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا