اسلام آباد(ویب ڈیسک /ٹی این این)گلگت بلتستان ضلع سکردو سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے ایک اور اعزاز اپنے نام کرتے ہوئے یورپ کی بلند ترین چوٹی سر کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق محمد علی سدپارہ نے یورپ کی بلند ترین چوٹی مونٹ بلانک جو کہ 4808 میٹر بلند ہے، سر کرکے پاکستان میں تاریخ رقم کردیا۔
اُنہوں نے مہم جوئی کا آغاز دسمبر کے آخری ایام میں کیا تھا۔ یاد رہے اس قبل مونٹ بلانک 1976 میں سر کی گئی تھی۔ یوں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والےنامور کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے 8 ہزار میٹر بلند 8 چوٹیاں سر کرنے والے پہلے پاکستان میں پہلی بار تاریخ رقم کردیا۔
محمد علی سدپارہ 8 ہزار میٹر بلند کے ٹو، گشہ بروم1، گشہ بروم 2، براڈ پیک، ننگا پربت، مناسلو اور دیگر چوٹیاں سر کر چکے ہیں۔محمد علی سدپارہ کا تعلق اسکردو کے نواحی علاقے سدپارہ سے ہے۔یاد رہے کہ چند ماہ قبل ہی نامور کوہ پیما محمد علی سدپارہ نےدنیا کی نویں بڑی اور پاکستان کی دوسری بڑی چوٹی نانگا پربت 8125-M ایک بار پھرسر کی تھی۔محمد علی سدپارہ نےدنیا کی نویں بڑی چوٹی نانگا پربت ایک بار پھر سر کرلی۔
سیکریٹری الپائن کلب آف پاکستان کرار حیدری نے اس حوالے سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ محمد علی سدپارہ نے یہ کارنامہ پانچویں مرتبہ سر انجام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ محمد علی سدپارہ پاکستان کے پہلے کوہ پیما ہیں جنہوں نے دنیا کی چودہ ، آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں میں سے سات چوٹیاں سر کر چکے ہیں۔محمد علی سدپارہ کے ہمراہ 10 غیر ملکی کوہ پیماؤں نے بھی نانگا پربت کی چوٹی سر کی تھی۔
گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما محمد علی سدپارہ نے یورپ کی بلند ترین چوٹی سر کر کے تاریخ رقم کردی۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا