اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/ٹی این این)پاکستان نے بھارت کےجاری کردہ سیاسی نقشوں کو مسترد کردیاہے جو اقوام متحدہ کے نقشوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ دفتر خارجہ کےترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ گزشتہ روز بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ سیاسی نقشوں میں جموں و کشمیر کے علاقے اور گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے حصوں کو بھارت کا حصہ دکھانا غلط اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مکمل خلاف ورزی ہے۔ترجمان نے اعادہ کیا کہ بھارت کا کوئی بھی اقدام اقوام متحدہ کی جانب سے جموں و کشمیر کی تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔
دوسری طرف ہندوستان کے اس اقدام کے بعد گلگت بلتستان میں متنازعہ بنیاد پر حقوق کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ہندوستان کو کہا جارہا ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کی اکائی ہے اور جب تک رائے شماری نہیں ہوتے گلگت بلتستان،لداخ،جموں کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق متنازعہ ہی رہے گا،گلگت بلتستان کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ہندوستان کی جانب سے لداخ کو براہ راست مرکز کے ماتحت کرنے کو دہشت گردی قرار دیا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ہندوستان کےناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے گلگت بلتستان کو اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے مطابق حقوق دینے کی ضرورت ہے اور یہاں کے عوام کا سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی کے خلاف احتجاج پر غور فکر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دشمن ملک بھارت کو کسی بھی طرح گلگت بلتستان میں دخل اندازی کا موقع نہ ملے
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا