چلاس(نامہ نگار خصوصی)خطیب جامع مسجد چلاس مولانا مزمل شاہ نے جمعہ کے خطبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم اپلیٹ کورٹ کے حوالے سےنام نہاد عوامی ایکشن کمیٹی کا حالیہ بیان قابل مذمت ہے، عوامی ایکشن کمیٹی چلاس میں چیف کورٹ کے سرکٹ بنچ کے قیام کے راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے، گلگت بلتستان کی عوام خود ساختہ اور نام نہاد عوامی ایکشن کمیٹی سے بےزار ہیں یہ لوگ اداروں کو کمزور کرنے کیلئے ایک مخصوص اندرونی اور بیرونی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم اپلیٹ کورٹ کے وقار کو مجروح کرنے والے عناصر کو سخت سزا دی جائے۔مولانا مزمل شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے سکردو میں 500سو بیڈ ہسپتال کا اعلان کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے لیکن دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ ہونے کے باوجود یہاں پر کوئی بڑا ہسپتال نہیں، وزیر اعظم اپنے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر دیامر میں بھی 5سو بیڈ ہسپتال کے قیام کا اعلان کرکے عوام کے محرومیوں کا ازالہ کریں۔
یاد رہے مولانا مزمل شاہ کا تعلق گلگت بلتستان کے ان مذہبی شخصیات میں ہوتا ہے جو ہمیشہ اہم مواقع پر متنازعہ بیانات دیکر ضلع دیامر کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں اور حقوق گلگت بلتستان کیلئے متحرک قوتوں کے حوالے سے اُنہوں نے ہمیشہ محراب منبر کوعوام میں شعور اوربیداری کا راستہ روکنےاور گلگت بلتستان کے اجتماعی مفادات کے خلاف مسلسل بیانات اُن کا موضع خطبہ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا پرعوامی حلقوں کی جانب سے مسلسل سوال اُٹھ رہا ہے کہ آخر کب تک مسجد اور محراب سے اسطرح کے بے بنیاد اور من گھرٹ الزامات لگاتے رہیں گے۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مسلسل کہا جارہا ہے کہ حالیہ بننے والے گلگت بلتستان بچاو تحریک کیلئے جہدوجہد کی ابتداء ضلع دیامر سے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ضلع دیامر کے قومی شعور رکھنے والے یوتھ جو کثیر تعداد میں ہیں لیکن اس مذہبی خوف سے آگے بڑھنے کی ہمت نہیں رکھتے،کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔
جامع مسجد چلاس کے خطیب مولانا مزمل شاہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کو بیرونی الہ کار قرار دے دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا