گلگت(ٹی این این) گلگت شہر میں غیر مقامی بیکاریوں نے عوام کاجینا دوبھر کردیا ہے۔ اس وقت گلگت شہر میں بیکاریوں کی تعدا د میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے لیکن حکومتی سطح پر گلگت میں ملک کے دیگر شہروں سے بیکاریوں کی آمد اور اس دھندنے میں ملوث عناصر کو قانون کے گرفت میں لانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے۔ شہر بھر کے مختلف مارکیٹوں اور سڑکوں پر ان بیکاریوں کا راج ہے اس سے معاشرے کے غریب لوگ بھی متاثر ہو کر بھیگ مانگنے کا راستہ اختیار کرسکتا ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں جہاں بیروزگاری عروج پر ہے وہیں حکومت کی جانب سے غریبوں کی امداد کیلئے بھی کوئی قانون نافذ نہیں ۔ لہذا عین ممکن ہے کہ غریب لوگ بھی اس مفت کی کمائی سے متاثر ہوکر یہ پیشہ اختیار کرلے۔ اس کے علاوہ ان افراد کے حوالے عوامی حلقوں کی جانب سے یہ بھی شکایت کی جارہی ہے کہ یہ لوگ بھیگ مانگنے کے نام پر منشیات اور جسم فروشی جیسے گھناونے کام میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔ ایک شہری نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ایک خاتوں بیکاری نے اُن سے باقاعدہ جسم فروشی کی آفر کی لیکن اُنہوں نے مذاق سمجھ کر نظرانداز کیا۔ اسسٹنٹ کمشنر گلگت کی جانب سے غیرمقامی بیکاریوں کو علاقہ بدر کرنے کے احکامات تو جاری ہوئے ہیں لیکن اس سے پہلے اس بات کی تحقیق ضروری ہے کہ اُن کو لاجسٹک سپورٹ کون فراہم کرتا ہے اس گروہ کا سرغنہ کون ہے جو ان لوگوں کیلئے کرائے پر مکان تک تلاش کرکے دیتے ہیں۔اس جرم کا خاتمہ نہیں ہوا تو عین ممکن ہے کہ دیگر اضلاع کی طرف بھی یہ مافیا اپنا نیٹ ورک پھیلائے لہذا اس گروہ کے خلاف بھر پور ایکشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت میں غیر مقامی بیکاریوں کا راج،جرائم اور معاشرتی برائیوں میں اضافے کا خدشہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا