استور (نامہ نگار خصوصی)وقت گزرنے کے بعد منسٹر فرمان کا شونٹر کو ضلع بنانے کا مطالبہ عوام استور کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ جب وزیراعلی چار اضلاع کا اعلان کررہے تھے تب دونوں ممبران سو رہے تھے۔ ان ممبران میں ڈویژنل ہیڈکواٹر کے حوالے سے اسمبلی اجلاسوں میں بات کرنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔آپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لئے حکمران جماعت کا شونٹر کو ضلع بنانے کا مطالبہ مزاحقہ خیز ہے۔ جب وقت تھا تب پیپلز پارٹی نے شونٹر ضلع کا مطالبہ کیا تو یہ لوگ مزاق آڑایا کرتے تھے۔اب وقت گزرنے کے بعد آپوزیشن جماعتوں سے ضلع کے لئے اتحاد کا نعرہ لگانا صرف آپنے معاملات سیدھے کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی شونٹر کو ضلع بنانے کے لئے تحریک چلائے گی۔ جو لوگ استور کو ایک الگ اضافی نشست نہیں دلا سکے وہ اب اب الگ ضلع کا مطالبہ کرکے نیا ڈرامہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی ضلع استور کے رہنماؤں نے آپنے مشترکہ اخباری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع استور رقبہ کے لحاظ سے آزاد کشمیر سے بڑا ہے۔ لیکن الگ اضلاع بناتے ہوئے استور کو نظر انداز کرنا ان مسلم لیگی ممبران کی استور کے مفادات کو کچلنے کی مسلم لیگی پالیسی کا حصہ ہے۔ منسٹر فرمان اور برکت جمیل ڈویژنل ہیڈکواٹر کے حوالے سے کبھی اسمبلی اجلاس میں لب کشائی کی ہمت نہیں کرسکے۔اور نہ ہی اضافی نشست ضلع استور کو دلوا سکے۔ اب الگ ضلع کا مطالبہ کرکے آپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں
پیپلزپارٹی کے رہنماوں نے استورشونٹر کو ضلع بنانےکے مطالبہ عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف قرار دے دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا