گلگت(ٹی این این) حکومت پنجاب کی جانب سے گلگت بلتستان میں صحت کے مسائل او ر وسائل کی عدم دستیابی جیسے سنگین مسائل میں کمی لانے کیلئے 12 ایمبولینس فراہم کے بعد مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے مرکزی قائدین سمیت کارکنان کریڈیٹ لینے کیلئے دست گریباں نظر آتا ہے۔ ستم ظریفی اور سیاسی جہالت کی انتہا یہ ہے کہ ایمبولینس کی فراہمی کا کریڈیٹ لینے گورنر راجہ جلال اور وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن دونوں نے اپنے سوشل میڈیا فیس بُک آفیشل پیج پر بھی کریڈیٹ لینا شروع کردیا۔
سوشل میڈیا فیس پر راجہ کے آفیشل پیج پر کچھ اسطرح کا پوسٹ کیا گیا؛گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون کے حالیہ دورہ لاہور کے موقع پر وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے گلگت بلتستان کے عوام کے لئے 12 جدید ایمبولنس دینے کا اعلان کیا تھا ۔ آج مذکورہ ایمبولنس گلگت پہنچ گئے ہیں۔
جبکہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے آفیشل پیج پر کچھ اس طرح کا پوسٹ لگا دیا؛سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف صاحب نے گلگت بلتستان کو دوسرا پنجاب تصور کرتے ہوئے جہاں بہت سے شعبوں میں گلگت بلتستان کے ساتھ بھر پور تعاون کیا وہاں ہیلتھ کے شعبے میں بہت ہی زیادہ مدد کی۔ہسپتالوں کے لئے جدید مشینری۔ایم آر آئی مشین کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے لئے بارہ جدید ایمبولنس بھی فراہم کرنے کی منظوری دی تھی ۔باقی مشینری تو ان کے دور حکومت میں گلگت بلتستان کے حوالے کی گئیں لیکن ایمبولنس حوالہ کرنے کی دستاویزات مرتب کرتے کرتے حکومت ختم ہوئیں،
آج وہی میاں شہباز شریف صاحب کی منظور شدہ بسیں پنجاب حکومت نے گلگت بلتستان حکومت کے حوالے کئے۔
گلگت بلتستان کے سیاسی پارٹیوں کے مزکری قیادت کی جانب سے 12 ایمبولینس کا کریڈیٹ لینے کی دوڑ نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دیا ہے۔سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس اقدام کو سیاسی نابلوغت اوربچاگانہ حرکت کہا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر کل سے جاری بحث میں عوام کا کہنا ہے کہ 12 ایمولینس کے امداد کو احسان سمجھ کر کریڈیٹ کیلئے لڑنے والے لوگ کس طرح 20 لاکھ عوام کا لیڈر اور اس خطے کی بہتر سالہ محرمیوں کی خاتمے کیلئے ایک قومی قیادت کے طور پر اُبھر کر سامنے آسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے اس اقدام کو گلگت بلتستان کے سیاست کا اصل چہرہ بھی بتایا ہے جہاں معمولی کام کیلئے یہ لوگ غیروں کے احسان تلے جھک جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر گورنر راجہ جلال اور وزیر اعلیٰ سمیت اُن کے دیگر رہنماوں اور کارکنان کی جانب سے کریڈٹ کی جنگ کا خوب مذاق اُڑایا جارہا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا