گلگت(ٹی این این)گلگت بلتستان کا امن روشن مستقبل کا ضامن ہے بدخواہوں کو ہضم نہیں ہورہا آئے دن قتل و غارت کی خبریں موصول ہورہی ہیں اس طرح کے اقدامات کو روکنے کیلئے انتظامیہ اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا.ان خیالات کا اظہار عوامی ایکشن کمیٹی کے طرف سے جاری کردہ بیان میں کیا گیا مزید کہا گیا کہ حسنین اکبر ایک ملنسار اور غریب نواز فرد تھا ان کا سرے راہ قتل لمحہ فکریہ ہے. اسے طرح سلطان آباد سے تعلق رکھنے والے محمد عباس کا سرے راہ قتل انتظامیہ کی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہے۔مزید کہا گیا کہ کل دن کے دو المناک اور افسوسناک واقعات میں حسنین اکبر امپھری& محمد عباس سلطان آباد اور گزشتہ دنوں مناور میں 2 نوجوانوں کا ایکسیڈنٹ اور دیگر حادثاتی صورتحال میں ڈی ایچ کیو اور سٹی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی بر وقت موجودگی کے حوالے سے سیکریٹری ہیلتھ سے عوامی ایکشن کمیٹی کے وفد نے ملاقات کی
ملاقات میں فوری طبی خدمات سرانجام دینے کیلئے ۔ سرجن گائنیکالوجسٹ میڈیکل اسپشلسٹ اور بے ہوشی کے ڈاکٹرز کو ہسپتال کے بالکل قریب رہائش فراہم کرکے عوامی بےچینی کا مداوا کرنے کا مطالبہ.
یاد رہے ڈی ایچ کیوں کے احاطے میں سرکاری مکانات ہونے کے باوجود ایمرجنسی کیسز میں ڈاکٹرز کو کبھی سکوار جوٹیال اور کبھی بسین سے بلوایا جاتا ہے اور انکے پہنچنے تک لوگ زندگی ہار جاتے ہیں.
جس کی وجہ سے عوام میں حد درجے کا اشتعال پایا جاتا ہے اور بسا اوقات کے اثاثہ جات کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے.
بعد ازاں عوامی ایکشن کمیٹی نے کل کے درد ناک واقعات میں جاں بحق ہونے والے حسنین اکبر اور محمد عباس کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور پسماندگان سے صبر کی تلقین کی اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس طرح کے واقعات میں ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے.اور محمد عباس ساکن گجر داس کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کو عمل میں لاکر حقیقت سے عوام کو آگاہی دی جائے. اس سے پہلے بھی سلطان آباد کے بے گناہ افراد کا سرے عام خون بہایا گیا اس بار بھی اگر قاتل کر گرفتا کرکے حقائق منظر عام پر نہیں لایا گیا تو وہاں کے عوام اور اہل خانہ کے جذبات کا پیمانہ لبریز ہوگا.
گلگت بلتستان کا امن روشن مستقبل کا ضامن ہے جو بدخواہوں کو ہضم نہیں ہورہا۔ مولانا سلطان رئیس
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا