اسلام آباد( تحریر نیوز) انسداد دہشت گردی عدالت گلگت کی جانب سے وومن ٹریفکنگ اسکینڈل کو بے نقاب کرنے والے صحافی کے خلاف گلگت میں درج آیف آئی آر کی پیروی نہ کرنے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم نامے پر گلگت بلتستان کے صحافتی نتظیموں نے خیر ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی کوئی احتجاج نہیں کیا۔البتہ موصوف صحافی چونکہ پنڈی میں مقیم ہیں اور گلگت بلتستان کے وزراء اور بیورکریسی کے اسکینڈل کی خبر کو سب سے پہلے اسلام آباد کے انگریزی روزنامچے نے شائع کی تھی، یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں فیڈرل یونین آف جرنلست راولپنڈی، اسلام آباد اس اقدام کو صحافی سے انتقامی کاروائی قرار دیکر حکومت گلگت بلتستان سے شدید احتجاج کرتے ہوئے اس قسم کے اوچھے ہتکنڈوں سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔
یونین کے صدر افضل بٹ نے پریس ریلیز کے کے ذریعے حکومت گلگت بلتستان کو پیغام دیا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کی مقامی حکومت نے کیس واپس نہ لیا تو اسلام آباد میں نون لیگ کی مرکزی حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
یاد رہے پی ایف یو جے نے اس پہلے بھی وفاقی وزیر اطلاعات کے سامنے وومن ٹریفکینگ کی غیرجانبدارنہ تحقیقات، ڈی جے مٹھل کی رہائی اور بانگ سحر اخبار پر پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس وقت تک کوئی اپ ڈیٹ نہیں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا