سکردو(ٹی این این) سپریم کورٹ پاکستان کی جانب سےمورخہ 17 جنوری 2019ء کو گلگت بلتستان کی آئینی اور جغرافیائی حیثیت پراپنے تاریخی فیصلے میں اس خطے کی متنازعہ حیثیت کے حوالے سےایک بار پھر حکومت پاکستا ن کی دیرینہ موقف کا اعاہ کرتے ہوئےگلگت بلتستان کو متنازعہ خطہ اور ریاست جموں و کشمیر کی اکائیقرار دینے اور رائے شماری تک انتظار کرنے فیصلے کے بعد گلگت بلتستان میں اس خطے کو اقوام متحدہ کی 13اگست 1948 کے قراداد کی روشنی میںمقامی خود اختیاراتی حکومت کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے۔
اس فیصلے کی بنیاد پر گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف وزری روکنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے سوشل میڈیا فیس بُک اور ٹیوٹر پر اس حوالے سے باقاعدہ منظم انداز میں کمپئن چل رہا ہے۔ عوامی مطالبات کے پیش نظر 18 فروری 2019 کوقانون ساز اسمبلی میں تحریک اسلامی کے ممبر اوراپوزیشن لیڈر کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان قوم پرست رہنما نواز خان ناجی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی جاوید حسین کی جانب سے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی روکنے کیلئے جو سمری تیار کی تھی جسے باقاعدہ طور پر اسمبلی میں زیر بحث لانے کیلئے ہاوس آف ایڈوائزی کمیٹی کے سامنے پیش کیا ۔ ایڈوائزی کمیٹی میں اس بل کی سب سے پہلے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اسپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی فدا محمد ناشاد اور مسلم لیگ ن کے وزیر قانون اورنگزیب خان ایڈوکیٹ ، متحدہ مجلس عمل کے ممبر رکن قانون سازاسمبلی نگر سے تعلق رکھنے حاجی رضوان اور استور سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے رکن قانون ساز اسمبلی رانا فرمان علی کی مخالفت گلگت بلتستان کے عوام کو حیران کردیا۔
گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے باوجود سٹیٹ سجیکٹ کی مخالفت پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پایا جاتا ہے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے یہ دونوں پارٹیاں شدید تنقید کے زد میں ہے،سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ جب گلگت بلتستان صوبے کی بات آجائے تو مسلم لیگ ن کے صدر وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ ہے لہذا مسلہ کشمیر کی حل تک ایسا ممکن نہیں لیکن متنازعہ حیثیت کے تحت گلگت بلتستان قوانین نافذ کرنے کی راہ میں رکاوٹ نظر آنا اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ اُن کے نزدیک قومی مسائل کی کوئی حیثیت نہیں ۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے قریبی حلقوں کا بھی کہنا ہے کہ ناشاد کو مسلم لیگ ن کا رہنما کہنا ذیادتی ہوگی کیونکہ اُنکی نگاہیں صرف اقتدار کی طرف ہوتی ہے اور اقتدار کیلئے اس وقت تک وہ تمام پارٹیاںتبدیل کر ہوچُکی ہے لہذا یہ اُنکا ذاتی معاملہ ہے۔ مسلم لیگ ن کے اہم عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیر قانون سے اس وقت خود وزیر اعلیٰ پریشان ہیں کیونکہ پارٹی کے اندر اُنکا کردار مشکوک ہے اور وہ کس سے ڈیکٹیشن لیکر معاملات طے اور فیصلے کرتے ہیں کسی کو نہیں معلوم۔
سوشل میڈیا پر اور عوامی حلقوں کی جانب سے مجلس وحدت المسلمین کے رُکن کا سٹیٹ سبجیکٹ کی مخالفت کو دراصل آغا مخالف قوتوں کی جیت قرار دیا جارہا ہے کہا جارہا ہے۔کہا جارہا ہے کہ جس طرح گلگت بلتستان کونسل میں سکردو سے تعلق رکھنے والے کاچو امتیاز نے پارٹی لیڈر سے بغیر کسی مشاورت کے کونسل ممبر کیلئے ووٹ کاسٹ کیا بلکل اسی طرح ایم ڈبیلو ایم کے ممبر قانون ساز اسمبلی حاجی رضوان کی جانب سے سٹیٹ سبجیکٹ کی مخالفت نے ایم ڈبیلو ایم کے سیاسی کردار کو مشکوک بنایا اور پارٹی کے قائدین کے بیانئے کو مسترد کرکے عوام کو حیران کردیا۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شدید خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور ایم ڈبیلو ایم اس وقت گلگت بلتستان میں اگلے الیکشن کیلئے سیاسی اتحادی ہیں اور ایک طرف تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لوکل اتھارٹی کے قیام کیلئے مطالبہ کرنے کے بجائے عبوری آئینی صوبے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ تحریک انصاف کے پارٹی منشور میں ایسا کچھ ذکر نہیں بلکہ داخلی خود مختاری کاوعدہہے۔ دوسری طرف ایم ڈبیلو ایم کے ممبر قانون ساز اسمبلی کی مخالفت پر ابھی تک پارٹی کی طرف سے کوئی ایکشن نہ لینا عوام کیلئے واضح پیغام ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاست نظریات اور قوانین کے مطابق نہیں بلکہ خواہشات اور مفادات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
سٹیٹ سبجیکٹ کی مخالفت،مسلم لیگ ن اور ایم ڈبیلو ایم کے سیاسی کردار پر سوال اُٹھ گیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا