گلگت(ٹی این این ) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں خطے کی متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر سٹیٹ سجیکٹ رول کی خلاف ورزیوں کو روکنے کا اعلان ہوگیا۔ قانون ساز اسمبلی اپوزیشن لیڈر کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان کی جانب سے تیار کر کردہ سمری تیار کردی گئی ہے جسے پہلے مرحلے میں ایڈوائزی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا جس کے بعد باقاعدہ طور پر اسمبلی میں بحث کیلئے لایا جائے گا۔ متحدہ اپوزیشن کے رہنماوں کپٹن شفیع،جاوید حسین اور نواز خان ناجی کی طرف سے تیار کردہ مسودے میں سپریم کورٹ کے 17 جنوری 2019 کے تاریخی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو مسلہ کشمیر کے تیسرے فریق کے طور پر تسلیم کیا جائے اور وہ تمام قوانین جو مسلہ کشمیر سے منسلک دیگر خطوں میں رائج ہیں اس گلگت بلتستان میں بھی فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ متحدہ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے باوجود سٹیٹ سبجیکٹ رول کی 1974 سے خلاف ورزی ہورہا ہے اُسے روکنے کیلئے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیکر بل کے ڈرافٹ کو اسمبلی میں پیش کریں تاکہ گلگت بلتستا ن کو بھی وہ تمام حقوق حاصل ہوسکے جو دیگر فریق کو حاصل ہیں۔یہ سمری سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کپٹن شفیع کو گلگت بلتستان کے عوام اور حقوق کی جدوجہد میں متحرک یوتھ داد دے رہا ہے اور مسلم لیگ کی حکومت سے بھی مطالبہ کیاجارہا ہے کہ اس بل کو منظور کرانے میں اپوزیشن کا ساتھ دیں ۔

More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا