حقوق سے محروم گلگت بلتستان۔۔

0 0

انسان جس معاشرے میں رہتا هے اس معاشرے کے کچھ حقوق هوتے هیں اور وہ ریاست کی زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس معاشرے کے بنیادی حقوق دیں اور ملک کا آئین بھی یہی کہتا ہے لیکن جس دیس میں ہم رہ رہیں ہیں وہاں کی صورت حال کچھ مختلف ہے یہاں تو حقوق تو دور کی بات ہے حقوق کے لیے بات کرنا بھی جرم ہے. گلگت بلتسان کے باشعور عوام اپنے اباو اجداد کی قربانیوں کو پش پشت هرگز نہیں ڈالیں گے کیونکہ انکی مرحون منت سے یہ خطہ آزاد ہوا تھا اور سولہ دن تک ایک الگ ریاست بنی رہی۔اور شائد پھر قسمت کو منظور نہ تھا سولہ دن کی آزادی ایک لمبی غلامی میں بدل جائیگی۔ یوں یہ سفر چلتا بنا اور پاکستان سے ایک پولیٹکل ایجنٹ آکر کلہاڑوں اور ڈنڈوں کی زور پر آزادی حاصل کرنے والوں پر حکومت کرنا شروع کیا اور یوں یہ سفر آج تک جاری ہے اور گلگت بلتستان کے لوگ اپنے حقوق کی جنگ لڑتے رہے اور کبھی ہمیں آرڈر اور کبھی ہمیں پیکیجز کے زریعے سے چلانے کی کوشش کی ۔سپریم کورٹ آف پاکستان کا آج کا فیصلہ گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے باعث شرمندگی اور باعث ندامت ہے جس ملک کے لیے گلگت بلتستان کے لوگوں نے ہر قسم کی قربانیاں دی اور اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا۔ جب بھی پاکستان کی سالیمیت کے اوپر بات آئی یہاں کے لوگوں نےکسی قسم کی قربانیوں سے دریغ نہیں کیا چاہیے وہ سیاچن کے گلیشرز،وزیرستان کے میدان ہو یا کشمیر کے پہاڈ یہاں کے شناخت سے محروم لوگ سیسہ پلائی دیوار کیطرح کھڑے رہے لیکن اس قوم کی قسمت ہی خراب ہے جو ستر سالوں سے بنا شناخت کے مرے جا رہے ہیں. سپریم کورٹ سے جڑی ہوئی توقعات اسی وقت دم توڈ گئی تھی جب پچھلی سماعت میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ جو بھی فیصلہ آئے گا گلگت بلتستان کے لوگوں کو خوش ہونا چائیے۔ شائد ثاقب نثار صاحب کو معلوم تھا کہ فیصلہ اس کے ہاتھ میں نہیں اسلیے اس نے پہلے ہی کہہ دیا تھا.آج جب فیصلے کو پڑھ کر سنا رہے تھے تب چیف جسٹس صاحب نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کو مبارک باد بھی دیا. اور فرما رہے تھے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے تمام حقوق دے دییں ہیں.چیف جسٹس صاحب شائد تاریخ سے نا آشنا ہونگے ورنہ اس طرح کے آرڈرز اور پیکجیز گلگت بلتستان کے لوگ ستر سالوں سے برداشت کرتے آرہیں اور ہر قانون کے رکھوالوں نے گلگت بلتستان کو اپنی لونڈی سمجھ کر اپنے مطابق فیصلے کیے اور گلگت بلتستان کے عوام کو لڑوا کر گلگت بلتستان کو اپنے حقوق سے دور رکھا گلگت بلتستان میں کبھی مزہبی اور کبھی علاقائی تعصب دے کر یہاں کے سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنایااس بار گلگت بلتستان کے لوگوں کو سپریم کورٹ آف پاکستان سے کچھ امیدیں وابستہ تھی کیونکہ گلگت بلتستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے حق میں فیصلہ دینگے، لیکن ایک بار پھر وہی ہوا جو پچھلے ستر سالوں سے ٹرک کی بتی کیطرح ہمیں لٹکایا گیا۔ اسی وجہ سےگلگت بلستان کے لوگوں کے اندر احساس محرومی بڑھتی جا رہی ہے اور اس وقت گلگت بلتستان کے باشندے شدید Identity crises کا شکار ہیں اور مزید وہ برداشت نہیں کر سکتے ہیں کیون کہ انسان دنیا میں جہاں کہیں پر بھی رہتا ہے اس کی کوئی پہچان ہوتی ہے لیکن گلگت بلتستان کے لوگ نہ پاکستان کے نہ کسی اور ملک کے باشندے ہیں. ہم پاکستانی صرف اس وقت زبردستی بنایا جاتا ہے جب پاکستان کو اپنا مفاد نظر آتا ہے. چآہیے وہ سی پیک ہو یا دیامیر ڈیم۔ اب گلگت بلتستان کے لوگ مزید متحمل نہیں ہو سکتے ہیں اور ہر جگہ سے گلگت بلتستان کے لوگوں کو بتایا گیا کہ تم متنازعہ لوگ ہیں اور اس وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے گلگت بلتستان کے لوگوں کو UNCIP کی قرار دادوں کے مطابق انکی حثیت واضح کرنے کی ضرورت ہےگلگت بلتستان کے نوجوانوں میں بڑھتا ہوا شعور گلگت بلتستان کے وفاق پرستوں، مفاد پرستوں اور ریاست پاکستان کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے اندر پائی جانے والی محرومیاں اور محکومیاں شائد کسی بڑے انقلاب کے انتظار میں ہے جب بھی ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے نہ یہ ظلم رہے گا نہ یہ محرمیاں رہینگے بس اب کسی ایجنڈے یا کسی لوبی کا شکار بنے بغیر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر عوامی جہدو جہد کے زریعے سے اپنی حثییت واضح کرنا ہوگا نہیں تو وفاق پرست اور مفاد پرست گلگت بلتستان کے لوگوں کو ہمیشہ کیطرح لٹکاتے رہینگے اور یہی لوگ گلگت بلتستان کے اصلی دشمن ہیں.اب امتحان گلگت بلتستان کے لوگوں کا شروع ہوا ہے کہ وہ ہمیشہ کیطرح آرڈر اور پیکیجز پہ گزارہ کرنا ہے یا 2018 کیطرح بھر پور عوامی مزاحمت کے زریعے سے اس نئے لولی پاپ کو واپس بیجھنا ہوگا ورنہ ہمیشہ کیطرح غلامی در غلامی کیطرف سفر جارہی رہے گا. یاد رہے اسی آرڈر کو سابقہ گورنمنٹ نے بھی بڑی کوشش کی تھی کہ وہ جاتے جاتے گلگت بلتستان کے لوگوں کو کوئی نیا سیٹ اپ دے کر جائیں لیکن انکو گلگت بلتستان کے با شعور لوگوں نے بھر پور مزاحمت کرکے اسلام آباد بیھج دیا۔ اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گلگت بلتستان کا دورہ کرکیا اور آرڈر 2018 کو نافذ کرنے کا بھی پلان تھا لیکن متحدہ اپوزیشن اور عوامی ایکشن کے پلیٹ فارم سے بھر پور عوامی جہدوجہد اور یکجہتی کیوجہ سے جی بی گورنمنٹ اور ریاست پاکستان کو گھٹنے ٹیکنا پڑھا.شکریہ چیف جسٹس صاحب آپنے گلگت بلتستان کے لوگوں کی آنکھیں کھول دی اور اب شاید گلگت بلتستان کے لوگوں کی ضمیر جاگ جائے گی اور اپنی شناخت اور موجودہ حثییت کے لیے اٹھ کھڑے ہونگے, نہیں تو گلگت بلتستان کے چند حق پرستوں کے علاوہ باقی سب کوئی وفاق کی دلالی کر رہا تھا تو کوئی اپنے مفاد لے رہا تھا تو بعض لوگ ستو پی کر سو گئے تھے آپ صاحب نے جاتے جاتے ان سب کی آنکھیں کھول دیا اور اب ہمیں امید ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے حق پرستوں کے ساتھ مل کر گلگت بلتستان کے حقوق اور UNCIP کی قراردادوں کے مطابق اپنی حثییت واضح کرنے کی کوشش کرینگے….!
تحریر: شرافت حسین استوری

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website