مظفرآباد(مانیٹرنگ ڈیسک/ٹی این این) وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے مرکزی ایوان صحافت کی تقریب حلف برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا کشمیر میں بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے لانے میں پاکستانی میڈیا اپنا کردار ادا کرے۔اُنکا کہنا تھا کہ احتساب کا وہ ڈرامہ جو پاکستان میں ہے نہیں کروں گا،پرویز مشرف کے جانے کے ساتھ اس کا فارمولہ چلا گیا۔
اُنکا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان پرسپریم کورٹ پاکستان کو بات کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے جی بی کولوکل اتھارٹی تسلیم کیا گیا ہے کچھ بیوقوف قسم کے لوگ تیرہویں آئینی ترمیم سے نقصان پہنچنے کا کہتے ہیں لیکن جی بی کو صوبہ بنانے پر ان کا کہناہے کہ کوئی نقصان نہیں ہو گا۔
یاد رہے گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی اور متحدہ اپوزیشن کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کو اب مزید کسی قسم کے آرڈر یا پیکج پر نہیں چلایا جاسکتا ہے۔ صوبے کا مطالبہ یہاں کے عوام کو درینہ مطالبہ رہے ہیں لیکن اگر معلوم ہورہا ہے کہ مسلہ کشمیر کی حل تک ایسا ممکن نہیں لہذا گلگت بلتستان کو بھی آذاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی طرح متنازعہ حیثیت کے مطابق حقوق ملنا چاہئے۔ اس سلسلے میں کل راولپنڈی میں گلگت بلتستان کے وکلاء نے بھی اہم اجلاس طلب کرکے گلگت بلتستان کو اقوام متحدہ کے قرادادوں کے مطابق حقوق کے حصول کیلئے جہدوجہد تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ یہاں کے عوام گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو پہلے ہی احتجاج کرکے مسترد کر چُکی ہے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا