گلگت(تحریر نیوز نیٹ ورک)تنظیم حقوق پشتی باشندگان گلگت کے رہنماوں نے تنظیم کے صدر مشتاق احمد کی قیادت میں گلگت پریس کلب پرخصوصی پریس کانفرنس کیا، اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے وسائل زمینوں ملازمتوں و دیگر معاملات میں اہلیان گلگت کے ساتھ ظلم عظیم ہورہا ہے ان زیادتیوں میں انتظامیہ کے اندر بیٹھے افراد برابر کے ملوث ہیں۔ حکومت فوری طور پر اس زیادتی کو روکیں اُنکا کہنا تھا کہ گلگت کے حدود میں کوئی خالصہ سرکار رقبہ نہیں موضو ع کے حدود میں موجود تمام قدرتی وسائل چراگاہ اور ارضیات یہاں کے پشتی باشندگان کی ملکیت ہے۔
اُنکا کہنا تھا کہ گلگت کے حدود میں غیر مالک اور غیر مقامی افراد کو الاٹ منٹ کی گئی جو کہ بالا استحقاق میں اور قابل منسوخی ہے۔ حددود گلگت میں خالصہ سرکار کے عنوان سے ہزاروں کنال چراگاہی اراضی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے نام الاٹ کی گئی ہے جو کہ نہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ اہلیان گلگت کے ساتھ ظلم۔قراقرم یونیورسٹی انتظامیہ غیر متعلق لوگوں کے ساتھ اہلیان گلگت کی چراگاہیں ارضیاب بابت معاہدہ کرنے کی کوشش میں ہے جس باعث کے آئی یو کے متعلقہ حکام سے احتجاج کیا جاچُکا ہے اور عوام گلگت اس بابت مزید احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں، جدید بندوبست مورخہ سال دو ہزار دو میں بے شمار ایسے لوگوں کو حدود گلگت میں اہلیان گلگت کی ملکیتی چراگاہیں ارضیات میں سے ملیکت دی گئی ہے جو کہ ظم عظیم ہے، موضع گلگت کے حدود میں قانون کی بالادستی کی خاطر ناجائز قابض اور کرپٹ اہلکاران سرکار اور کرش پلانٹ مافیا کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ محکمہ جنگلات بعض کرپٹ ملازمین اور جنگل مافیا کو لگام دینا وقت کی ضرورت ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا