سکردو(نامہ نگار) گلگت بلتستان کو سیاحوں کی جنت کہتے ہیں لیکن سہولیات کی عدم دستیابی اس صنعت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے جسکا ادارک کرنے والا کوئی نہیں۔ کچھ ایسے ہی مسلے سے نومولود ضلع کھرمنگ کے سیاحتی مراکزبھی دوچار ہیں۔ کھرمنگ میں و یسے تو سیاحت کے حوالے سے بیش بہا قدرتی مواقع موجود ہیں لیکن پچھلے کئی سالوں سے منٹھوکھا آبشار اور خاموش آبشار سیاحت کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں لیکن ان دونوں مقامات پر سہولیات بلکل نہ ہونے کے برابر ہیں اس وجہ سے یہاں سیاحوں کے ساتھ مقامی آبادی کو بھی پریشانیوں کر سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ کیونکہ ان دونوں مقامات پر صفائی کا کوئی انتظام نہیں جوکہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہا ہے، اور نہ ہی متعلقہ تھانے کی طرف سے مناسب سکیورٹی کا کوئی انتظام کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باہر سے آئے ہوئے اوباش لڑکوں کی شیطانیاں اور حرکتوں نے علاقے کی خواتین کیلئے راہ چلنا مشکل کیا ہوا ہے جوکہ معاشرتی قدار کی پامالی ہے۔ منٹھوکھا ندی جہاں سے پورے علاقے کے لوگوں کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے لیکن آبشار پر باتھ روم اور سوریج کا مناسب انتظام نہ ہونے کے سبب ندی کا پانی مضر صحت بنتا جارہا ہے جو آنے والے وقتوں میں مزید خطرناک صورت حال اختیار کرسکتا ہے۔ ہمارے نمائندے نے اس حوالے وہیں ہوٹل پر کام کرنے والے کارکن نے جاننا چاہا تھا معلوم ہوا کہ سیوریج لائن نہ ہونے کے سبب باتھ روم اور کچن کے گندے پانی کو ندی میں چھوڑا ہوا ہے جوکہ انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہیں۔ محکمہ صحت ماحولیات اور سیاحت کے ذمہ داران کو اس حوالے سے تحقیقات کرکے ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا