شگر(عابدشگری)معاون خصوصی برائے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان شہزادہ حسین مقپون نے مسلم لیگ (ن) شگر کے صدر طاہر شگری کے ہمراہ شگر گلاب پور میںسیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا اور متاثرہ افراد سے بھی ملاقات کی انہوں نے متاثرین کی مطالبات اور مسائل سنے۔اس موقع پر سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سیلاب سے متاثرہ افراد کے بارے میں کافی فکر مندہے اور وہ خود جلد سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرینگے اور بحالی کی کاموں کا جائزہ لیں گے اور متاثرہ افراد کیلئے پیکیج کا اعلان کرینگے۔میں وزیر اعلیٰ کی ہدایات پر مسیلاب سے متاثرہ افرا د کی خبر گیری اور حالات کا جائزہ لینے آیا ہوں ۔ انشاء اللہ صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ کو زمینی حقائق اور لوگوں کی نقصانات اور لوگوں کی مطالبات پہنچائوں گا۔جلد ہی ریلیف اور بحالی کا کام شروع کیا جائے۔انہوں نے متاثرین کو یقین دلایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور لوگوںکی بحالی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ جس کیلئے تمام وسائل برئوکار لایا جائے گا۔اور جلد تمام افراد اپنے گھروں میں ہونگے۔فوری طور متاثرہ افراد کی مطالبات کو مدنظر رکھتے فوری اور ہنگامی اقدامات کئے جارہے ہیں۔
اُنکا مزید کہنا تھاکہ گلگت سکردو انٹرنیشنل معیار کے مطابق بنایا جارہا ہے۔اور روڈ کو مزید 12فٹ چوڑا کیا جائے گا جس کے بعد روڈ کی چوڑائی 52فٹ ہوگی۔روڈ پرخطرات والی جگوں پر موجو دتمام ٹنل بھی بحال رکھے ہوئے ہیں جس سے کسی بھی خطرات کم سے کم ہونگے۔ اس روڈ کی تکمیل کے بعد سکردو سے گلگت تک سفر محفوظ ہونگے اور وقت کی بچت ہونگے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کی صوبائی حکومت حقیقی معنوں میں عوام کی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔اور الیکشن میں لوگوں سے کئے گئے تمام وعدے پورے کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سکردو گلگت روڈ مسلم لیگ (ن) کا کارنامہ ہے جسے گذشتہ حکومت نہ کرسکا۔اس روڈ کی وجہ سے سکردو ریجن کے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا تھا۔ جسے محسوس کرتے ہوئے ہماری حکومت نے اولین ترجیح دی۔انشاء اللہ یہ روڈ وقت سے قبل تکمیل ہونگے۔جس کے بعد لوگوں کو اس روڈ پر سفر کرنے میں آسانی ہونگے۔انہوں نے کہا کہ یہ روڈ کے کے ایچ سے بھی اچھی معیار سے بن رہے ہیں۔اور حال ہی میں روڈ کی کشادگی کو مزید 12فٹ چوڑا کرنے کی منظوری دی گئی ہے جس میں سے 6فٹ کی اونچی دیوار بھی تعمیر کیا جائے گا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا