سکردو( تحریر نیوز نیٹ ورک ) سکردو سے راولپنڈی کے روٹ پر حکومت کی جانب سے کرایوں کی وصولی کے حوالے سے قوانین نہ ہونے کی وجہ سے کار سروس والے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اس وقت سکردو سے روالپنڈی کیلئے کئی درجن سے ذیادہ سرکاری طور پر غیررجسٹرڈ رینٹ اے کار سروس چل رہی ہے لیکن ان کار والوں کی جانب سے عوام سے وصول کرنے والوں نامناسب کرایوں کا کوئی پوچھنے والا نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت یہ سروس سکردو سے پنڈی روڈ پر ایک مافیا بن چُکی ہے جو عوام کو دونوں سے لوٹا جارہا ہے۔سکردو سے پنڈی کیلئے عام طور پر کار میں 2000 سے 3000 روپیہ فی مسافر لیا جاتا ہے لیکن کار مافیا نے کرائے کی اضافے کیلئے اپنی طرف سے ہی قانون بنا کر کار کے سیٹوں کو بھی جہاز کی طرح صف بندی کی ہوئی ہے جس کے تحت جہاز نہ آنے یارش ہونے کی صورت میں اگلے کی سیٹ کا 7 سےساڑھے سات ہزار جبکہ پچھلے سیٹ کا 4 سے پانچ ہزار کرایہ وصول کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ان غیرقانونی کار سروس کے ذیادہ تر ڈرائیور منشیات کا نشہ کرتے ہیں مگر سکردو انتظامیہ اس اہم مسلے سے بلکل ہی لاعلم نظر آتا ہے ۔۔ یادگار شہداء سکردو سے لیکر مشہ بروم ہوٹل تک کے حدود میں پھیلے ان کار سروس کے مسافرین سے ہمارے نمائندے نے خصوصی طور پر انٹریوو لیا تو معلوم ہوا کہ یہ مافیا عوام کی مجبوری سے خوب فائدہ اُٹھا رہےہیں اور اُن کے اس گھناونی جرم میں مقامی ٹرانسپورٹ کے منشی حضرات براہ راست ملوث ہیں جو اُن کیلئے مجبور مسافریں کی مجبوری کا فائدہ اُٹھاتےہوئے کمیشن وصول کرتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے سکردو ضلعی انتظامیہ اس حوالے سے ایکشن لیں اور سکردو سے راولپنڈی اور گلگت کیلئے سروس فراہم کرنے والی غیرقانونی پرائیوٹ کار کمپینوں کی رجسٹریشن اور سرکاری سطح پر کرایہ نامے کو یقینی بنائیں۔
سکردو پنڈی روڈ پرپرائیوٹ کار سروس والوں کی من مانیاں عروج پر، عوام کو خوب لوٹا جارہا ہے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا