پُرامن احتجاج کرنے والے عوام کو ڈی سی ہنزہ نے آرڈر 2018 کے تحت جیل میں ڈالنے کی دھمکی دے دی۔

0 0

ہنزہ (نامہ نگار خصوصی)آرڈر 2018 کے تحت زندان میں ڈال سکتا ہوں زبان بند رکھیں ورنہ انسداد دہشتگردی کے دفعات لگاکر جیل بھیج دوں گا۔ ڈپٹی کمشنر کی ہنزہ کے عوام کو دھمکی۔قائم مقام اسسٹنٹ کمشنر (یوئی ) کی بھی احتجاج کرنے پہ لاشیں گرانے کی دھمکی کے بعد ہنزہ میں نوجوان مشتعل ڈپٹی کمشنر ہنزہ اور یوئی ہنزہ ،ہنزہ ہیں فوری طورپر کاروائی کی جائے پتہ بھی ہلا تو ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ عوامی سیاسی اور سماجی حلقوں کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق پیر کے روز امجد ایوب کی قیادت میں ہنزہ ،ڈورکھن کے عمائدین کے وفد کی ڈپٹی کمشنر ہنز ہ سے قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی ہنزہ کمپس کی زمین کے لئے مذاکرات طے تھے اور جب ڈورکھن کے عمائدین کی جانب سے امجد ایوب نے قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی کمپس کے لئے حکومت کو درکار زمین کے بدلے کسی مناسب مقام پر زمین کی فراہمی ،موجودہ مہنگائی کے حساب سے معاوضوں کی ادائیگی کی بات چھیڑی ہی تھی کہ ڈپٹی کمشنر آپ سے باہر ہوگئے۔ اور امجد ایوب کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرنے والے معززین علاقہ سے بدتمیزی کرتے ہوئے گلگت بلتستان آرڈر 2018 میں ڈپٹی کمشنر کو تفویض کردہ اختیارات کے تحت انسداد دہشتگردی کے مقدمات درج کرانے اور زندان میں ڈالنے کی دھمکی دیتے ہوئے دفتر سے نکل گئے۔ ادھر ڈپٹی کمشنر کی دھمکیوں کے بعد یوئی ہنزہ نے ڈورکھن میں برلب سڑک تعمیر شدہ مکان کو بلڈوزکرنے کی کوشش کی اور ڈورکھن میں عوام کو لاشیں گرانے کی دھمکی دی۔ ڈپٹی کمشنر اور یوئی کی دھمکیوں پر ہنزہ میں نوجوان مشتعل ہوگئے ہیں اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں باالخصوص خفیہ اداروں کے سربراہان سے صورتحال کو نوٹس لینے اور ڈپٹی کمشنر اور یوئی کی سازشوں کی تحقیقات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات عوام کو مشتعل کرکے سی پیک کو نقصان پہنچانے کی سازش ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website