گلگت(پ،ر) گلگت بلتستان پیکج 2018 کی تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد گلگت بلتستان کے مختلف پارٹیوں کی جانب سے ملی جُلی تاثرات پیش کیا جارہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے کئی اہم رہنماوں نے اس پیکج کو مسلم لیگ نون کے حکومت کا گلگت بلتستان دشمنی کا شاخصانہ قرار دیا جارہا ہے۔ جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولانا سلطان رئیس نے اس پیکج کو مسترد کرتے ہوئے ہوئے گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت اور اس خطے کے عوام کا پاکستان سے محبت کو سامنے رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کیلئے کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا مطالبہ کیا ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ وفاق پاکستان دفاع،کرنسی اور خارجہ پالیسی کے علاوہ تمام اختیارات گلگت بلتستان کو دئے جائیں۔ سوشل میڈیا پر اُن کے اس بیان کو عوام خصوصا یوتھ کی جانب سے خوب سراہا جارہا ہے۔
سب کچھ اُلٹا ہوگیا، عوامی ایکشن کمیٹی نے نئے پیکج کو مسترد اور دبنگ مطالبہ پیش کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا