تازہ ترین

اسسٹنٹ کمشنر ضلع کھرمنگ کے حکم پرمقامی فعال صحافی محمدقاسم قاسمی گرفتار ۔

کھرمنگ(تحریر نیوز نیٹ ورک) اسسٹنٹ کمشنر کھرمنگ سید شہریار شیرازی کے حکم پر ضلع کھرمنگ کے فعال صحافی محمد قاسم قاسمی کو گرفتار کرلیا۔ اُنکی گرفتاری رات 10 بجے کے قریب عمل میں آئی اور اُنہیں یورنگٹ کھرمنگ میں واقع اپنے گھر سے گرفتار کرکے طولتی تھانے منتقل کیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق اُنکا دیگر ایشوز کے ساتھ کھرمنگ مرول میں واٹر سپلائی پروجیکٹ کے معاملے پر گزشتہ ایک ماہ سے اختلاف چل رہا تھا کیونکہ قاسمی کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کھرمنگ کی جانب سے محکمہ تعمیرات عامہ کے فزیبلٹی رپورٹ کے برخلاف واٹر سپلائی کے ٹینکی کو خالصہ سرکار پہ زبردستی بنانے بضد ہے۔ جبکہ اُنکا کہنا تھا کہ عوام ایسا نہیں چاہتے اگر ایسا ہوا تو لائن آف کنٹرول کے قریب عوام کے درمیان انتشار پھیل سکتا ہے۔
گزشتہ روز اُنہوں نے اس حوالے سے ایک مکمل رپورٹ بھی میڈیا کو جاری کیا جس کے بعد اُنکا اسسٹنٹ کمشنر کھرمنگ سید شہریار شیرازی کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی اور اے سی کی جانب سے اُنہیں کہا گیا کہ میں کوئی مقامی افسر نہیں ہوں جو کسی کے دباو میں آجائے میرا مقصد سرکاری خزانے کو فائدہ پونچانا ہے اور وہ میں کرکے رہوں گا۔ تلخ کلامی میں شدت کے ساتھ فریقین کی جانب سے گالیاں دینے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ہمارے نمائندے نے رات گئے اسسٹنٹ کمشنر کھرمنگ سید شہریار شیرازی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے ۔ مگر اُن کے ایک قریبی ساتھی کے مطابق صحافی قاسم قاسمی جس مسلے کو ہوا دے رہا تھا وہ اُنکے تایا کا ہے اور وہ اپنے تایا کو معاوضہ دلانا چاہتا تھا لیکن اے سی کے انکار پر اُنہوں نے سرکاری افسر کو اُن کے دفتر میں ننگی گالیاں اور کھرمنگ بدر کرنے کی دھمکی دی جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے اُنہیں گرفتار کروایا۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر گالی سے ہی کسی کو گرفتار کرنا ہے تو اس سے پہلے یہی اے سی جب ضلع شگر میں خدمات سرانجام دے رہا تھا اُس وقت سنئیر وزیر اکبرتابان کے بیٹے کو کسی پروگرام میں بغیر پاس کے داخل ہونے کی کوشش پر روکنے کی وجہ سے اُنہوں نے بھری محفل میں اسی اسسٹنٹ کمشنر کو گالیاں دی تھی وہ ویڈیو آج بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے لہذا گالی ایک بہانہ ہے لیکن اصل مسلہ افسر گردی ہے۔کہا یہ جارہا ہے کہ ضلع کھرمنگ انتظامیہ محمد قاسم قاسمی کی کچھ اخباری رپورٹس سے نا خوش تھے اور اُنہیں دیگر صحافیوں کی طرح سرکار کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کو مسلسل کہا جارہا تھا لیکن اُنہوں نے ایک نہ سُنی بلکہ وہ ضلع کھرمنگ میں سرکاری منصوبوں میں ہونے والے گھپلوں پر ایک رپورٹ بھی تیار کررہا تھا ہوسکتا ہے کہ وہ رپورٹ منظر عام لانے سے روکنے کیلئے ایسا کیا ہو۔
کل رات سے لیکر ابھی تک سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شدید ہنگامہ برپا ہے ۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر نے کمزور طبقے پر طاقت آزمائی کرکے عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ یہاں اصل حاکمیت غیرمقامی بیوروکریسی کی ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلع کھرمنگ لائن آف کنٹرول ایک حساس ترین ضلع ہے اور یہاں کسی بھی قسم مسائل اورا حتجاج کا ذمہ دار ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی کیونکہ
اے سی کا رویہ کھلی بدمعاشی اور قابل مذمت عمل ہے۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اُنہیں بغیر کسی شرط کے رہا کریں ۔ سکردو میں عوامی ایکشن کمیٹی اور بلتستان یوتھ الائنس کی جانب سے اس حوالے سے احتجاج کرنے کی تیاریاں شروع کی جاچُکی ہے۔

  •  
  • 16
  •  
  •  
  •  
  •  
    16
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*