قانون کسی بھی ملک اور قوم کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔قانون کی وجہ سے ہی آج انسان دنیا میں ترقی اور امن قائم رکھنے کے قابل ہوپایا ہے۔قانون کے بدولت ہی انسان دنیا میں انسانیت کو سہارا دیتا ہوا آیا ہے۔ گویا قانون کے معنی ہم یہ اخذ کرسکتے ہیں کہ ہر فرد اور ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر اپنی آزادی استعمال میں لانے کے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے تیسری دنیا بلخصوص وطن عزیز (پاکستان) میں نہ اداروں کو ملک کی قانون سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی پاکستانی عوام کو قانون سے کوئی مطلب ہے۔ہر کوئی اپنی آزادی کا استعمال اپنے انداز اوراپنی خواہشات کے مطابق استعمال کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ کچھ ذکر ان اداروں کا کرتے ہیں جو ملک کے قانون کے سب سے بڑے علم بردار ہیں۔سب سے پہلے پولیس محکمے کی بات کرتے ہیں جو ملک کے عوام کی تحفظ اور حفاظت پر مامور ہے لیکن اس کے برعکس جب ہم کسی پولیس والے کو کسی چوکی یا راستے میں دیکھتے ہیں تو تحفظ کے احساس کے بدلے ڈر اور خوف کا احساس دل میں جگہ بناتا ہے گو یا کہ ہم نے انسانی شکل میں کوئی خونخوار جانور دیکھا ہو، کیونکہ ہمیں یہ پتہ ہے کہ ان سے عوام کاصرف نقصان ہے اور ان کی موجودگی سے عوام کو عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ محکمہ پولیس کے بعد جب ہم محکمہ صحت پر نظر دوڈاتے ہیں تو حکومتی ہسپتالوں میں ناقابل اور ناتجربہ کار ڈاکٹرزوسٹاف اور جبکہ پرائیوٹ ہسپتالوں میں بھاری فیسوں کا ظلم۔اگر کوئی تجربہ کار ڈاکٹر حکومتی ہسپتالوں میں موجود ہے بھی تواُس سے ملاقات اُس کے پرسنل کلینک میں ہی ممکن ہوپاتا ہے، جس کیلئے جیب کابھاری ہونا لازمی ہے۔کسی غریب نے کیا خوب کہا ہے کہ جب ہم کسی پرائیوٹ ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں تو اللہ پاک کے حکم سے ڈاکٹرز زندگی عطا فرماتے ہیں اور فارغ کرتے وقت بھاری فیسوں کی شکل میں جان نکال دیتے ہیں۔بہرحال اس ظلم اور ستم کا اگر جلد از جلد کوئی علاج نہ کیا گیا تو غریب ہسپتالوں میں علاج سے خودکشی کو بہتر علاج جانیںگے۔حکومتی ڈاکٹروں کے ہسپتالوں میں ڈیوٹی ٹائمنگ پر ڈیوٹی سے غیر حاضر ہونا سنگین جرم اور قانونی خلاف ورزی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جس کا کوئی پوچھنے والا نہیں ۔محکمہ صحت کے بعد تعلیم کے محکمے پر گفتگو کیا جائے ،تعلیم انسان کو انسانیت کا سبق دیتا ہے اور ملک و قوم کی ترقی کا واحد ضامن بھی کہلاتا ہے۔محکمہ تعلیم کا تو وہ بُراحال کیا گیا ہے،جس کی کو ئی تلافی نہیں کی جاسکتی۔تعلیمی اداروں سے طالب علموں کی جگہ صرف ڈگری کا کاغذ ہاتھ میں لیکر اخلاق سے خالی مشنیں فارغ کیے جاتے ہیں۔ڈاکٹراشفاق احمد صاحب کا ایک جملہ یاد آتا ہے،جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ڈگریاں تو تعلیمی اخراجات کے رسیدیں ہیں،اصل تعلیم کا پتہ توانسان کے اخلاق سے ہوتا ہے۔میں ان طالب علموں کی اس میں کوئی غلطی نہیں سمجھتا ۔اس ستم کا مکمل ذمہ دار وہ نصابی قانون بنانے والے ہیں۔جنہوں نے نصاب میں اخلاقیات کو مکمل فراموش کیا ہے اوریہ قانون کا مسئلہ ہے۔پولیس ، تعلیم اور صحت وہ بڑے شعبے ہیں،جو ملک میںترقی کے ضامن ہے۔محکمہ پولیس ملک میں قانون کی بالا دستی کا ذمہ دار، محکمہ تعلیم ملک سے جہالت کی تاریکی کو روشنی میں تبدلی کا ذمہ دار اورمحکمہ صحت ملک سے بیماریوں سے پاک اور ملک صحتمند نسلیں دینے کا ذمہ دار اور تمام محکمے وطن عزیز میں اپنی قانونی فرائض کی ادا ئیگی سے مکمل قاصر ہیں اور پوچھنے والا کوئی نہیں تومسئلہ قانون اور آئین کا ہے۔
تحریر: وجاہت عالم
مسئلہ قانون و آئین کا ہے۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟