ادب کی رو سے دیکھا جائے تو یہ محاورہ ایک سو دس فیصد غلط ہے. ایک سو دس فیصد بھی اگر معنوی لحاظ سے دیکھیں تو درست نہیں. پس ایک سو دس فیصد لکھا جاتا ہے پڑھا جاتا ہے اس سے ہمیں کیا. مندرجہ بالا عارضی اور وقتی محاورہ جب ہم معاشرے پہ اپلائی کریں تو درست ثابت ہوگا. یہاں بیگانے سے مراد مقبوضہ گلگت بلتستان ہے اور عبداللہ سے تو ہم سب اچھی طرح واقف ہیں. جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے عبداللہ نے دوسروں کی خوشی کی خاطر وہ کام انجام دیے ہیں جو واجب تو کیا مستحب بھی نہ تھے۔.
عبداللہ سے ہماری یکطرفہ محبت ہے. اس یکطرفہ محبت نے ہمیں دیوانہ بنا چکی ہے. ہم عبد اللہ کے ہر غم میں برابر کے شریک ٹھرے ہیں اور ہر خوشی پہ خوش ہیں. اس کی استقلال اور استحکام کی خاطر ستر دہائیوں سے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے چلے آرہے ہیں. مگر افسوس صد افسوس کہ عبداللہ کو ہماری محبت سے سروکار نہیں. یکطرفہ محبت کو عبداللہ نے یکطرف رکھ دیا ہے. ہم اس یکطرفہ محبت کے آغاز و انجام سے بھی اچھی طرح وقف ہیں. اس یکطرفہ محبت کی سزا اس وقت سنائی گئی تھی جب ہم نے اپنی آزادی تھالی میں رکھ کے پیش کیا ( کچھ مورخیئں کے مطابق) اور ہمیں مسئلہ کشمیر کیساتھ جوڑا گیا۔ گلگت بلتستان مقبوضہ علاقہ ہے. اس کا تعلق مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ہے. بتاتا چلوں کہ مسئلہ کشمیر سے جڑا رہنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے. اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہاں ملک پاکستان کی سیاسی پارٹیاں الیکشن نہیں لڑ سکتیں. اب ہم تو ٹھرے دیوانے، ہمارے کام بھی دیوانوں جیسے ہم شمال سے پاکستان کے ہر کونے تک ناچنے اور تالیاں بجانے چلے آتے ہیں. پیپلز پارٹی کا لاڑکانہ میں جلسہ ہو یا چترال میں. مسلم لیگ کا رائیونڈ میں جلسہ ہو یا لاہور مینار پاکستان میں ریلی . تحریک انصاف والے ہمیں اسلام آباد دھرنے پہ بلالیں یا پشاور جلسے کے لئے، ہم ہمہ وقت تن ، دھن اور من سے تیار رہتے ہیں. بہت دفعہ ایسا بھی ہوا ہے، ہم نے بلانے سے قبل ہی اپنی حاضری یقینی بنائی. یقیناً ایسے کام دیوانے اور سر پھرے ہی کر سکتے ہیں. اور دیوانوں کے منہ لگنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔.
بقول ناصر کاظمی صاحب
دیوانہ ہے دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟