محمدحسن حسرت بلتستان کا علمی و ادبی سرمایہ

3 0

اکادمی ادبیات پاکستان نے پاکستانی ادب کے معماروں کی شخصیت اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالنے کےلئے ایک سیریز کا اغاز کیا ہوا ہے جس کے تحت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پاکستان بھر کے نامور ادبی معماروں پر مختلف علمی شخصیات نے کتابیں لکھ ڈالیں ہیں۔ گلگت بلتستان جس طرح ملک کے آئینی دائرے میں شامل نہیں بلکل اسی طرح ملکی سطح کے علمی وادبی اداروں کے دائرے میں بھی شامل نہیں تھا مگر اب وقت کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے ادیبوں قلمکاروں اور شاعروں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے خود کو اُن ملکی سطح کے علمی و ادبی اداروں میں شامل کروایا ہے۔حال ہی میں اکادمی ادبیات کے چئیرمین و معروف علمی و ادبی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک نے اپنے دورہ سکردو کے دوران معروف ادبی تنظیم بزم علم و فن کے زیر اہتمام ایوان اقبال سکردو میں گلگت بلتستان کے نامور لکھاریوں یوسف حسین آبادی، محمد حسن حسرت، غلام حسن حسنو، احسان علی دانش اور ڈاکٹر سجاد استوری کی نصف درجن کُتب جو اکادمی ادبیات اسلام اباد کے زیر اہتمام مختلف اہم موضوعات پر شائع ہوئیں ہیں کی رونمائی کرتے ہوئے سکردو میں اکادمی ادبیات کا دفتر کھولنے کی نوید سُنا کر علم و ادب سے وابستہ ہر شخص کا دل جیت لیا یقیناََ سکردو میں اکادمی ادبیات کادفتر کُھلنے سے تصنیف و تالیف اور تحقیق سے وابستہ اہل علم و ادب کو ملکی سطح کے ایک ادارے کی سرپرستی و رہنمائی حاصل ہوگی اس کےلئے بلتستان کے منتخب نمائندوں کو اکادمی ادبیات کےلئے زمین فراہم کرنی ہوگی جس کےلئے اسپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی سید امجد علی زیدی سے چئیرمن اکادمی ادبیات نے بات بھی کی ہے۔ گلگت بلتستان کے ممتاز محقق، ادیب اور نقاد محمد حسن حسرت کی دو کُتب بھی اکادمی ادبیات نے شائع کی ہیں جن میں سےا یک “سید عباس علی شاہ شخصیت اور فن” ہے۔ “سید عباس علی شاہ شخصیت اور فن” پہلی بار کسی بلتی ادیب پر لکھی گئی کتاب ہے جو “پاکستانی ادب کے معمار” سیریز نمبر 147 پرہے۔محمد حسن حسرت نے اس کتاب کے ذریعے بلتی زبان کے ممتاز شاعر سید عباس علی شاہ المعروف “بوا عباس علیہ الرحمتہ” کی شخصیت کے ہر پہلو کو اُجاگر کرنے کی قابلِ قدر سعی کی ہے جو بلتی زبان بولنے والوں سے پوشیدہ تھے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر سید عباس علی شاہ اُردو اور فارسی میں شاعر ی کرتے تو مرزا بیدل اور مرزا اسداللہ خان غالب کے برابر مقام پاتےچونکہ سید عباس علی شاہ بلتی زبان میں شاعری کرتے تھے سواُنہیں بلتی زبان کے ملک الشعرا کا درجہ حاصل ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں جہاں بلتی زبان کے دور اول ، دور متوسطین اور دور حاضر کے ممتاز شعراء کا تذکرہ کیا ہے وہیں اُن شعراء کے مذہبی اصناف حمد ،نعت ، نوحہ اور مرثیہ گوئی سمیت صنف غزل میں مثالی کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔محمد حسن حسرت نے ڈوگرہ راج کے بدترین مظالم کے دور میں بلتی شاعروں کی مزاحمتی شاعری کا بھی تذکرہ کیا ہےجو تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ محمد حسن حسرت نے “سید عباس علی شاہ شخصیت اور فن” میں بلتی زبان و ادب کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے جو آج کے طالبعلموں کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ محمد حسن حسرت نے بلتستان کی تاریخ ، ثقافت، لوک ورثہ، آثارقدیمہ، بلتی زبان و ادب جیسے موضوعات پر دو درجن سے زائد کتابیں لکھی ہیں اور بلتی زبان کو اردو دان طبقے تک پہنچانے میں بھی گراں قدر خدمات ہیں۔ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کےلئے بھی اُنہوں نے بہت سارے ڈرامے، دساویزی مسودے لکھے خاص طور پر ریڈیو پاکستان سکردو کے لئے اُن کی خدمات لائق صد تحسین رہی ہیں یوں بلتستان کا ایک روشن چہرہ دُنیا کو دکھانے میں محمد حسن حسرت کا بہت بڑا کردا ر ہے۔ اُن کی کتاب ” بلتستان تہذیب و ثقافت” کا چینی زبان میں ترجمہ ہوا ہےجبکہ لوک ورثہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والا “ثقافتی انسائکلوپیڈیا شمالی علاقہ جات” اور علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح پر پاکستانی زبانین و ادب کے لئے لکھے گئے مقالوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اُن کی اِن قابل قدر علمی و ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے اُنہیں 2017 ء میں ادب کے شعبے میں صدارتی ایوارڈ برائے حُسنِ کارکردگی سے نواز ہے۔ محمد حسن حسرت چار کتابیں عنقریب شائع ہونے جارہی ہیں جن میں سے دو آکادمی ادبیات جبکہ دو ادارہ فروغ قومی زبان والے شائع کر رہے ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے پاکستانی معمار سیریز میں پروفیسر حشمت علی کمال الہامی پر کتاب آ رہی ہے۔ باشعور قومیں علمی و ادبی شخصیات کی حیات میں ہی قدر کرتی ہیں اور اُن سے استفادہ حاصل کرتیں ہیں جبکہ لاشعور قومیں اُن شخصیات کی حیات تنگ کرکے اُن کی زندگی اجیرن کرتی ہیں سید عباس علی شاہ المعروف بو عباس علیہ الرحمتہ نے اپنے اس شعر میں اس بات کا ثبوت پیش کیاہے کہ

خنم لا کا تنگفو نی سی دریزن ہلہ فید بیاسید ثاقبی ژھولا شہاب پو یا علیؑ زیر بوژہ اِن

گلگت بلتستان کی تاریخ ، ثقافت اور تہذیب و تمدن پر کام کرنے والے سینئر علمی و ادبی شخصیات ایک ایک کرکے سوئے عدم کو سدھار رہی ہیں اور ہمارا ایمان بھی یہی ہے کہ ہم سب نے باری باری چلے جانا ہے ایسے میں ہر دور کی صوبائی حکومت کو پورے صوبے کے بُزرگ علمی و ادبی شخصیات سے گلگت بلتستان کی تاریخ ثقافت ، تہذیب و تمدن او رزبان کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کےلئے حکمت عملی کے تحت کام کرنا چاہیے تھا مگر صد افسوس اس طرف کسی نے توجہ دینے کی زحمت ہی نہیں کی ۔ گلگت بلتستان کی تاریخ، ثقافت، تہذیب و تمدن اور علاقائی زبانوں پر جو کام ہوا ہے وہ بلکل ناکافی ہے اس پر مذید کام کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے حکومت کو سرکاری سطح پر “اکادمی ادبیات” یا “مقتدرہ قومی زبان” طرز کا ایک الگ ادارہ تشکیل دے کر تاریخ ،ثقافت، زبان، تہذیب و تمدن پر وسیع تجربہ رکھنے والے بزرگ ادیبوں سے استفادہ حاصل کرنا ہوگا۔ موجودہ صورتِ حال کا بغور جائزہ لینے کے بعد جون ایلیا کا وہ شہرہ آفاق قول یاد اتا ہے کہ ” جن کو پڑھنا چاہیے تھا وہ لکھ رہے ہیں اور جن کو لکھنا چاہیے تھا وہ پڑھ رہے ہیں”۔ امید ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت گلگت بلتستان ادبی بورڈ تشکیل دے کر بزرگ ادباء سے علمی میدان میں خدمات حاصل کرے گی اس سلسلے میں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی جو علم وادب سے گہرا تعلق رکھتے ہیں بھی اپنا کردار ادا کریں گے ۔

 

 

تحریر۔ جی ایم شجاع

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website