بڑی بڑی غلافی آنکھیں، ستواں ناک ، خوب رو چہرہ دھیما مؤدب لہجہ اور میانہ قدوقامت کے مالک عباس کھرگرونگ گلگت بلتستان کی ادبی دنیا میں ایک الگ اور منفرد حیثیت کے مالک تھے۔ ان کی سماجی زندگی بھی کچھ الگ گذری تھی۔ بچپن کا زیادہ تر عرصہ راجہ سکردو کے محل کے اطراف گنگوپی میں گذرا، وہیں پلے بڑھے اور بعد ازاں کھرگرونگ میں منتقل ہوئے۔
عباس صاحب پی ڈبلیو ڈی میں ملازم ہوگئے اور وہیں سے سپرنٹینڈنٹ ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ اس محکمے کی گل افشانیاں اور مال و زر کی کہانیاں طلسم و شربا کی طرح رنگین اور زباں زد عام ہیں مگر عباس صاحب کی زندگی ایسے ماحول میں بھی دامن نچوڑ لیں تو فرشتے وضو کریں کی طرز پر گذری۔ جب وہ سپرنٹینڈنٹ تھے تو ہم کبھی کبھار ان کے دفتر جایا کرتے تھے وہاں ان کے زیر دست عملہ ان سے اتنا خوش نظر نہیں آتا تھا۔ وجہ کا ہمیں بخوبی علم تھا کیوں کہ ان کی اصول پسندی اور سرکاری وسائل کے استعمال میں کفایت شعاری ظاہر ہے سب کو کہاں پسند آتی تھی۔ ریڈیو پاکستان سکردو میں جب بلتی زبان میں ڈرامہ نگاری کا آغاز ہوا تو عباس کھرگرونگ آگے بڑھے اور ان کے قلم سے شاندار ڈرامے تخلیق ہوئے۔
انہوں نے فیچرز، خاکے ، لوک گیتوں کی توضیح و تشریح ، تاریخی داستانیں غرض بلتستان کی تہذیب وثقافت کا جو بھی قابل قدر گوشہ ہے اسے اپنے مخصوص میٹھے انداز میں لکھا اور پیش کیا۔
ابھی تو انٹرنیٹ، موبائل اور سوشل میڈیا کا دور آیا ہے اسی اور نوے کی دھائی میں گلگت بلتستان میں صرف ریڈیو ہی معلومات اور تفریح کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ ایسے ماحول میں عباس صاحب کے ڈرامے لوگوں کو ریڈیو سیٹ کے ساتھ جکڑ کر رکھ دیتے تھے۔ ڈراموں میں وہ سماجی ناہمواریوں ، حرص و ہوس اور انسانی رویوں کے علاؤہ تاریخ اورلوک گیتوں سے اساطیری کردار نکال نکال کر عصری تقاضوں کے مطابق ڈھال دیتے تھے۔ لفظوں میں کاٹ بھی ہوتی مگر سلیقہ اور روایتی ادب ضرور ملحوظ خاطر رکھا جاتا۔ مزاجاً بڑے حساس تھے اور جیسا کہ یہ بڑے فنکاروں کی شخصیت کا خاصہ ہوتا ہے۔ ہنسی مذاق روا تھا مگر تضحیک یا فکری کجی سے مفاہمت ان کے ہاں بہت مشکل تھی۔ ان کے دوست احباب اس سلسلے میں بڑی احتیاط برتتے تھے۔ ریڈیو پاکستان سکردو میں پینتیس سال سے مسلسل اردو اور خاص طور پر بلتی میں پروگرام کرتے چلے آئے تھے۔ روز اپنے گھر کھرگرونگ سے پیدل ریڈیو سٹیشن جاتے جو کئی کلومیٹر کا فاصلہ ہے ۔ اس دوران بھی مسلسل فکر و تخیل میں غوطہ زن نظر آتے وہ ریڈیو میں گفتگو کے دوران زبردستی واعظ بنتے دیکھائی دیتے اور نہ ہی گنجلک فلسفہ جھاڑنے کے عادی تھے بلکہ حقائق اور معاشرتی تضاد کو عام فہم مگر ادبی چاشنی کے ساتھ پیش کرتے۔ سکردو کی کڑاکے کی سردی ہو یا گرمی عباس صاحب اپنے شیڈول کے مطابق ریڈیو سٹیشن لازماً پہنچ جاتے اور کبھی عذر نہیں تراشا۔ وہ اپنے ڈراموں میں بھی اور دوسرے لکھنے والے دوستوں کے ڈراموں میں بھی ہلکے پھلکے کردار بخوبی نبھایا کرتے تھے۔
ان کی بلتی میں شاعری کم ہے مگر مرصع ، سوز دروں اور محبت کی الوہی آگ لئے ہے۔ یہ شاعری چپ چاپ آپ کے دل کی دھڑکنیں بڑھا دیتی ہے۔ میری خوش قسمتی کہ انہوں نے اپنی تمام غزلیں مجھے عنایت کی ہیں۔ نیز یہ میرے لئے سعادت رہے گی کہ وہ جب بھی اردو میں کالم لکھتے تو میری عزت بڑھانے کے لئے مجھے دیکھاتے اور درستگی کا حکم دیتے تھے۔ ان کی لوک گیتوں پر مبنی کتابHistorical Balti Folk Songs جب مرتب کی تو ازراہِ کرم مجھے بھی ریویو کے لئے دی تھی میں بھلا خاک ان کے کام پر نقطے نکال پاتا بس ان کی طرف سے عزت افزائی تھی۔
ان کا بلتستان کے تمام اہل قلم کے ساتھ محتاط مگر ادب کا رشتہ تھا جبکہ غلام حسن حسنی، ڈی ایس پی محمد افضل، غلام حسین بلغاری، وزیر شریف، محمد رضا، نسیم بیگ، فرمان علی مرغوب، عبداللہ کریم ، غلام حسن لوبسانگ ، شاہد حسین، ڈی سی بشارت حسین ، غلام علی حیدری، محمد اقبال نسیم ، ماسٹر عبداللہ، محمد حسین بیگ وغیرہ کے ساتھ زیادہ محفلیں جمتی تھیں اور ان میں سے بیشتر ان کے بچپن سے دوست تھے۔ غالباً حسنی صاحب سے زیادہ راز و نیاز تھا جس کا اکثر وہ ذکر کرتے رہتے تھے۔ حسنی صاحب کو کوئی اچھا مصرعہ موزوں ہوتا تو فوراً عباس صاحب کو آکر بتا دیتے اور جب عباس صاحب سے ڈرامے کی کوئی لائن اچھی بنتی تو حسنی صاحب کے پاس دھوڑے چلے جاتے یوں یہ سلسلہ حسنی صاحب کی وفات تک جاری رہا۔ عباس صاحب جب بسلسلہ روزگار گلگت میں مقیم تھے تو انہوں نے وہاں سے حسنی صاحب کو کئی خطوط لکھے وہ سب کے سب حسنی صاحب نے “چیرمین کے خطوط” کے نام سے محفوظ کر رکھے تھے جو اب ان کے بیٹے اسماعیل حسنی کے پاس موجود ہیں۔ خطوط میں بھی ان کا انداز بہت دل نشین اور ادبی مٹھاس سے بھرپور ہے۔
ہم ادب کے ایک ادنی طالب علم کی حیثیت سے بلتستان کے تمام علمی و ادبی شخصیات کے ساتھ نیاز مندی کا رشتہ قائم کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ عباس صاحب سے تقریباً بیس سال سے زائد کا عرصہ ہوا ایک قلبی اور فکری تعلق تھا۔ عمر کے تفاوت، اپنے علمی قدوقامت اور بلند مقام کے باوجود وہ ہم سے نہایت بے تکلفی اور محبت سے ملتے تھے۔ ان کی صحت کی وجہ سے گزشتہ کئی مہینوں سے ملاقات میں خلل پیدا ہوا تھا ورنہ جب بھی سکردو میں ہوں عباس صاحب، غلام محمد ظفر اور میں بازار کے کسی ریسٹورنٹ میں شام کے وقت ضرور اکھٹے ہوتے اور دیر تک گفتگو جاری رہتی۔ اس میں گاہے بہ گاہے عبد المجید شاھین اور غلام علی بھی شامل ہوتے رہتے تھے۔ ایک اہم ملاقات اس سال مارچ کے مہینے میں صدر راولپنڈی میں ہوئی انہیں جناب حسن حسرت صاحب حسین آباد ھاؤس سے ساتھ لے کر آئے تھے۔ اتوار کا دن تھا اور صدر بازار کے فٹ پاتھوں پر کتابیں ہی کتابیں تھیں مگر مجھے لگا کہ عباس صاحب اب پہلے کی طرح کتابوں میں وہ دلچسپی نہیں لے رہے
لگتا تھا کہ اب ان کا دل زندگی سے اچاٹ گیا تھا۔ سکردو واپسی کے بعد ایک آدھ دفعہ ملاقات رہی اور کچھ موبائل پر خبر خیریت ہاں وہ فیس بک پر میرے مضامین اور سیر و تفریح کی تصاویر پر ضرور فقرے کستے اور اکثر ان کا جملہ “یہ جو ھے کسل” ہوتا تھا۔
پانچ جون کو مھدی آباد میں برٹش آرٹس کونسل کھرمنگ کے زیر اہتمام ہونے والے مشاعرے میں اپنے شوق کے ہاتھوں دیرینہ ساتھیوں وزیر شریف، لوبسانگ اور عبداللہ کریم کے ساتھ شرکت کی انہیں تعظیما صدر محفل بنایا گیا۔ دو دن بعد خبر ملی کہ دل دغا دے گیا ان کی اپنی کہانی مکمل ہوئی۔ اب ہمارے ارد گرد کے کرداروں کو لفظوں میں پرونے کا سلیقہ کس کو نصیب ہوگا، کون میری ، آپ کی ، ھم سب کی ادھوری کہانی لکھے گا یہ ایک الگ کہانی ہے۔
اختر عثمان نے کیا کہا ہے۔
کچھ نہیں جہان میں کچھ نہیں جہاں کے بعد
ماتم رفتگاں ھے بس ۔۔۔۔۔۔ ماتم رفتگاں کے بعد
(عاشق فراز)
………………….
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟