حدیث نبوی ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔
یہ حدیث مبارکہ ہمیں غور و فکر کرنے کی بھر پور دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے گھر ، محلہ ، گاؤں، قصبہ اور شہر کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے کیونکہ یہ ہر شہری اور بالخصوص مسلمانوں کا اولین فریضہ ہے
کہ وہ اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں –
ویسے تو وادی غذر قدرتی حسن سی مالا مال ہے اور قدرت نے اس علاقے کو کلی طور پر سرسبز و شاداب گہنوں سے سجایا ہے اور اس کی تزئین و آرائش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ شہیدوں کی اس وادی جنت نظیر کا حسن و جمال قابل دید ہے ۔ ملکی و غیرملکی سیاحوں کے لئے یہ وادی بے حد پر کشش ہے کیونکہ اس علاقے میں پہاڑوں کے درمیان ہر پڑاؤ پر حسین وادیوں کا سلسلہ ہے اور ساتھ ساتھ خوبصورت پہاڑوں کے بیچ سے صاف شفاف اور نیلا دریا ان پرامن وادیوں کے بیچ سے گزر کر نظارے کو اور بھی حسین و جمیل بنا دیتا ہے۔ علاقے کی ہر وادی کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔
وادی غذر کا دارلخلافہ گاہکوچ شہر ہے –
چند سال قبل یہ ایک چھوٹا سا صاف ستھرا ٹاؤن ہوا کرتا تھا مگر گذشتہ چند سالوں میں اس کی آبادی بڑی تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہی ہے شہر پھیلتے پھیلتے دریا کنارے سے پہاڑی کے ساتھ ساتھ گھر تعمیر کرکے لوگ آباد ہوگئے ہیں اس وقت اتوار کے دن گاہکوچ بازار میں آپ کو ہر طرح کے افراد دکھائی دیتے ہیں مارکیٹ میں کاروبار سے منسلک افراد کی ایک کثیر تعداد صوبہ سرحد سے تعلق رکھتے ہیں الغرض آبادی میں مسلسل اضافہ کی ایک وجہ ملک کے دیگر صوبوں سے لوگوں کا مستقبل بنیادوں پر ڈسڑکٹ غذر میں آکر آباد ہونا ہے-
شہر کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ساتھ میں کوڈہ کرکٹ میں بہت اضافہ ہوا ہے جو شہر کی خوبصورتی کو متاثر. کر رہا ہے اس لئے گاہکوچ شہر
کی صفائی ستھرائی کے لئے ویسٹ منیجمنٹ غذر کا محکمہ پاکستان مسلم لیگ کے دور حکومت میں بنایا گیا ۔ یہ محکمہ حفیظ الرحمن صاحب کا علاقے کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔ اگرچہ ویسٹ منیجمنٹ صْلع غذر کے تمام اہل کار شہر گاہکوچ کو صاف ستھرا رکھنے میں دن رات محنت کرتے ہیں اور ان کی خدمات قابل ستائش ہیں چونکہ گاہکوچ شہر اور گردونواح کا ماحول کو بہتر بنانے میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ ہم ویسٹ منیجمنٹ ضلع غذر کی پوری ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ درجہ زیل اہم گزارشات محکمے کے زمہ دار حکام کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔
1- گندگی کے ڈھیر کو گاؤں گورنجر کے سامنے ڈھیر کرنے سے نہ صرف وہاں کے پورے ماحول میں بدبو پھیل گئی ہے بلکہ أج کل خاص کر گرمی کے دنوں میں سڑک پر سفر کےدوران گاؤں گرونجر کی پل سے کانچ موڈ تک پورے ماحول میں کچرے کی بدبو پھیلنے سے سیاحوں پر بہت منفی تاثرات مرتب کرتی ہے لہذا کچرہ کو کسی متبادل جگہ منتقل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وادی غذر کے عوام اور سیاحوں کی صحت پر بدبو کا منفی اثرات مرتب نہ ہو-
2.سڑک کے کناروں پہ پھیلے پلاسٹک کے شاپرز ، کاغذ اور قسم قسم کے چھوٹے بڑے ڈبے خصوصاً” جوس اور ملک پیک کے معصوم ڈبوں کے انکھوں سے بچے کھچے نکلتے أنسوں ان کے دکھ درد کی دردناک کہانیاں ہمیں بھی أپ لوگوں کی یاد پہ رولانے پر مجبور کرتی ہیں جن کو صاف کرنا اور شہر کے مختلف مقامات پر کوڑا دان نصف کرنے کی ضرورت ہے-
3. تیز ہواؤں کی صورت میں کچرے کے ڈمپ سے بچھڑے چند معصوم ہلکے پھلکے کچرے کےٹکڑے گاؤں گرونجر کی گلیوں میں ٹھوکریں کھاتے ہیں اور کچھ تو فضا میں تیرتے ہوئے لوگوں کے چھتوں اور صحن میں جا کر لینڈ کرتے ہیں اور جس سے موزی بیماری پھیلنے کے خدشات موجود ہیں –
4 – قیاس ہے کہ کچرے کے یہ آوارہ ٹکڑے چند دنوں میں اپ کا پیچھا کرتے کرتے واپس گاہکوچ شہر بھی پہنچ سکتے ہیں چونکہ یہ سارے ماحول کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس لئے بروقت اس اہم مسئلہ کو حل کرنے کی ضرورت ہے
گزارش ہے کہ آپ کی خدمات پر یہ مسئلہ پانی پھیرنے کا باعث بن گیا ہے لہذا بروقت کچرے کے اس ڈھیر کو یا تو اچھی طرح تلف کرنے کا متبادل طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جائے یا تو گورنجر گاؤں کے سامنے یہ کچرا پھینکنے پر پابندی عائد کر دی جاۓ اور کسی ایسی جگہ اس کچرے کو منتقل کیا جائے جو آبادی سے دور ہو-
گورنجر کے سامنے ڈھیر لگایا گیا کچرے کو فوری طور پر تلف کرنے کی ضرورت ہے اور کسی متبادل جگہ کچرے کو تلف کرنے کا انتظام کیا جائے تاکہ وادی غذر کی خوبصورتی کو کچرے کے اس ناقابل برداشت بدبو سے بچایا جاسکے.
تحریر عبدل نظیر
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟