پہلا قسط
جغرافیائی تاریخی ،قدرتی وسائل کے لحاظ سے اہم ترین خطہ” گلگت بلتستان” عرصہ دراز سے دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا ہے۔ اور کچھ عرصہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے نام سے جانا جاتا رہا۔مگر اب دنیا کی نظروں کا مرتکز بنتا جارہا ہے۔ اس کی سرحدیں خطے کے 3 ایٹمی ممالک انڈیا،چین،پاکستان کے ساتھ افغانستان سے بھی جا ملتی ہیں۔ جغرافیائی خدوخال کی اہمیت شروع سے ہی ہے۔ مگر اس وقت سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیا سمیت ہر کوئی “عبوری صوبے” پر پڑھ،لکھ،اور بول رہے ہیں۔سب کی رائے،تحفظات اور تجاویز کا احترام اپنی جگہ مگر اس کا وقت گزر چکا ہے۔اب **نظریہ ضرورت* کے تحت صرف اعلان باقی ہے۔ اس کے لیے بڑا جواز ہمسایہ ملک نے خود فراہم کیا جب بیک جنبشِ قلم کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختث کر ڈالا۔ تو اس طرف بھی ملک کا سوچنے والے سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور تمام سیاسی جماعتوں کو بھی مذاکرات کی میز پر بٹھایا اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی صورتحال،پاک چائنہ کوریڈور،مختلف ملکی بلاکس کی وجہ سے فیصلے میں تیزی آ گئی ہے۔
ملکی اور علاقائی طور پر رائے دینے والوں میں 4 طرح کے لوگ میدان میں کود پڑے ہیں۔
1- زمینی ،تاریخی و آئینی حقائق سے بے خبر فیس بکی گروہ
2- گلگت بلتستان کو مسئلہ جموں و کشمیر کا حصہ سمجھنے والا گروہ
3- الحاقی گروہ
4- تاریخی ،سیاسی اور آئینی و نظریہ ضرورت کو سمجھنے والا گروہ
یہ تو اٹل تاریخی حقیقت ہے کہ ڈوگروں سے آزادی کے بعد ہمارے بزرگوں نے بلا شرط و شروط نظریاتی اور عقیدتی بنیادوں پر “پاکستان کا مطلب کیا *لاالہ الااللہ* الحاق کی پیشکش کیں۔اور اس معاملہ کو بالغ ہونے میں 73 سال لگے۔مگر یہاں کے 80٪لوگ دانستہ یا غیر دانستہ الحاق کے حامی رہے ہیں۔ترقی اور حقوق کے طلبگار نہیں رہے
مختلف ادوار میں حقوق سے آ شنا گنے چنے افراد دریائے سندھ اور کےٹو پہاڑ کے مالکانہ حقوق کی صدا بھی بلند کرتے رہے ہیں۔مگر کسی سیاسی گروہ یا فرد کے پاس مکمل یا قابل عمل لائحہ یا پیکج نہیں رہا۔ایسی صورتحال ہو تو وقت اور تاریخ اپنا *فیصلہ* دےدیتا ہے۔ اور یہی *نظریہ ضرورت* ہے۔اب وقت نے اس خطے کی جغرافیائی،تاریخی اور قدرتی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
اور تمام تر عالمی،سیاسی جغرافیائی تناظر میں صوبے کے ساتھ *عبوری* کا لاحقہ لگانا بھی “ضرورت” ہے-
اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے کافی با اختیار ہوچکے ہیں۔اس طرح گلگت بلتستان بھی وفاق اور وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے چنگل سے بھی نکل جائے گا۔ اور ملک کے تمام صوبوں میں الیکشن ساتھ ہوں تو سیاسی طور پر وفاق پرستی سے آزادی اور بیساکھی کے بغیر الیکشن کا دنگل سجے گا۔
اب یہ ہم پہ منحصر ہے کہ کس قسم کے لوگوں کا چناؤ کر کے صوبائی اور قومی اسمبلی میں بھیجتے ہیں۔جہاں علاقے اور لوگوں کی تقدیریں لکھی اور بدلی جاتی ہیں۔
اٹھارویں ترمیم کے تحت 16 وزارتیں وفاق سےختم کر کے کلی طور پر صوبوں کو دے دی گئی ہیں۔ اس وقت پارلیمان اور صوبے زیادہ با اختیار ہیں۔
حقیقی معنوں میں اٹھارویں ترمیم نے پاکستان میں صوبوں کو سیاسی، انتظامی اور مالیاتی طور پر خود مختار کر دیا ہے۔
ان تمام تر زمینی حقائق کی روشنی میں گلگت بلتستان صوبے کے ساتھ “عبوری” کا لاحقہ لگنا بھی *نظریہ ضرورت* کے زمرے میں ہی آ تا ہے۔اس سے بہتر آپشن ہمارے پاس نہیں ہے۔جب تک عبوری کا لاحقہ لگا رہے گا, ٹیکسز،سبسڈیز،زمینوں اور این سی پی گاڑیوں پر چھوٹ بھی رہےگا اور قومی دھارے میں شامل ہوجائے گا۔اور یہ گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا موڑ اور بڑی پیشرفت ہوگی۔
جاری ہے
تحریر۔ فاطمہ سید موسوی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟