”
اس میں دو رائے نہیں کہ زندگی عارضی ہے، ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن کسی نہ کسی بہانے موت کو گلے لگانا ہے، یہ ناپائیدار سانسیں موت کی امانت ہیں، انسان چاہئے جتنا بھی طاقت ور ہو مگر موت کے سامنے بے بس ہے، خدا کے منکر بھی موت سے انکاری نہیں کر سکتے مگر ایک حضرت انسان ہے جو زندگی کو دائمی سمجھتے ہوئے اپنی اوقات بھول جاتا ہے، حقائق سے انحراف کر جاتا ہے اور زندگی و مادی صورتوں میں بقا تلاش کرتا ہے۔ جب آدمی سے انسان کا لباس اتارا جائے تو پھر اس میں ایک بے رحمی باقی رہ جاتی ہے جو تمام تر انسانی اقدار کو پس پشت ڈالتے ہوئے مادی اپروچ کے رستے پہ چل پڑتی ہے۔ مادی ضروریات سے انکاری بھی ممکن نہیں کیونکہ انسان کو جینے کیلئے کچھ اسباب درکار ہوتے ہیں لیکن جب یہ ضروریات انسان سے قیمتی ہوں تو پھر انسانی معیار کے تقاضے دم توڑ جاتے ہیں ایسے میں سماجی ڈھانچے میں ایک خطرناک لالچ سرائیت کر جاتی ہے جس میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ انسانی معاشرے خدا ترسی، ہمدردی، بھلائی اور نیکی کے تصورات پر کھڑے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ ملکہ کہسار کی برف پوش سڑکوں پر پھنسی ہوئی اس فیملی کی ویڈیو کو دیکھنے اور سننے کے بعد کلیجہ منہ کو آ گیا، دماغ ماوف اور دل بیٹھ سا گیا، پھول جیسے بچوں کی ڈوبتی مسکراہٹوں کو یہ بے حس معاشرہ کیسے بھول پائے گا، کاش یہ فیملی میرے گاوں بابوسر آتی ، انہیں کسی نے نہیں بتایا ہوگا کہ برف تو بابوسر کی وادیوں میں پڑی ہے، گلگت بلتستان کے پہاڑ بھی آج کل برف کی چادر اوڑھ کر دلہا بنے ہوئے ہیں، سرمائی سیاحت تو یہاں بھی عروج پر ہے، یہاں کے مکین تو ہر آنے والے کو اپنے سینے سے لگاتے ہیں، مہمان نوازی یہاں کی تہذیب ہے، یہ پہاڑی لوگ اپنی روایات کے امین ہیں۔ اپنے بچوں سمیت اجل کو لبیک کہنے والے پولیس انسپکٹر اپنی فیملی کو لیکر میری وادی میں آتے، میری سڑکیں اس کا استقبال کرتے اور اگر کوئی آفت آ بھی جاتی تو میرے رضا کار تیری گاڑی کو اٹھا کر لے آتے۔ میں تمہیں اپنے گھر میں رکھتا، اپنی روایتی انگیھٹی میں آگ جلا کر ننھے پھول جیسے بچوں کی سانسیں بحال کرتا، کاش تم میرے بابوسر آتے۔۔۔۔۔۔
تحریر : فیض اللہ فراق
“
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟