پاکستان کے پہلے خودساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی مارشل لائی حکومت کے آخری ایام میں کچھ اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں اور خاص طور پر چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اس وقت کے حساب سے چند پیسوں کا اضافہ ہوا تو گلی کوچوں میں ہائے ہائے کی صدائیں گونجتی رہی۔ باغی شاعر حبیب جالب نے انہی دنوں طنزاًکہا تھا۔
بیس روپیہ من آٹا
اس پر بھی ہے سناٹا
گوہر، سہگل، آدم جی
بنے ہیں برلا اور ٹاٹا
ملک کے دشمن کہلاتے ہیں
جب ہم کرتے ہیں فریاد
صدر ایوب زندہ باد
مگر اب کہنے کو تو سویلین حکومت ہے اور نام بھی کچھ عدل و انصاف والا مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ اب نہ حبیب جالب ہے کہ عوام کی صدا بن جائے اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں میں دم خم کہ کچھ شور شرابہ برپا کر سکیں۔
اولا اولا کہا گیا کہ حکومت نہیں مل رہی ورنہ ایسے ایسے عالی دماغ اور معشیت کو اوج ثریا تک پہنچانے والی ٹیم بازو میں ہے کہ دنیا دیکھتی رہ جائے گی۔ تھرڈ ورلڈ کے محنت کش تو چھوڑیں ترقی یافتہ ممالک سے لوگ نوکری اور کاروبار کے لئے دنیا بھر میں موجود ہمارے سفارت خانوں کے باہر قطاروں میں دیدہ و دل فراش کئے ویزوں کے لئے تڑپ رہے ہوں گے۔ اور جب حکومت ملی تو سب نے دیکھا کہ وہی گھگو گھوڑے جو ہر حکومت کے سیاسی اصطبل میں پائے جاتے ہیں اور دن رات بادشاہ سلامت کو خوش رکھنے انہیں ظل الٰہی کہتے نہیں تھکتے ، ارد گرد حلقہ زن تھے۔ معشیت کہاں درست ہونی تھی صرف بھان متی کے کنبے کی ہاؤ ہُو کا شور تھا اور کچھ بھی نہیں۔
اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں توازن رکھنا اور مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنا کسی بھی حکومت کا امتحاں ہوتا ہے ورنہ تو بڑے بڑے کارٹیلز منافع کی اندھی ہوس میں مصنوعی بحران پیدا کر کے اربوں روپے ڈکار لیتے ہیں اور خودساختہ جمہوری حکومتوں کو بے بس کر دیتے ہیں۔ انہیں کارٹیلز کے ہی لوگ اسمبلیوں میں جلوہ افروز ہوتے ہیں، قانون اور آرڈرز کو درخو اعتنا نہیں سمجھتے بلکہ غصہ آئے تو حکومتوں کا تختہ ڈانو و ڈول کر دیتے ہیں۔ اوپر سے چوں چوں کے مربہ سے بنی حکومت کو اتحادی اور آزاد ممبران بھی وقتاً فوقتاً لرزہ براندام رکھتے ہیں۔
وفاقی ادارہ شماریات جو ملک کی تمام اشیاء کی رسد و طلب اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا ڈیٹا مرتب کرتی ہے اس ادارے کی رپورٹس کے مطابق صرف 2021 میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو آیا ھے۔ ان اشیاء میں کھانے پینے کی اہم اشیاء آٹا ، دالیں، کوکنگ آئل اور چینی کی قیمتوں میں ہوشربا گرانی ہوئی ہیں۔ جبکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مانیٹری اعداد و شمار کے مطابق شرح سود میں اضافے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں گراوٹ اور مالیاتی منیجمنٹ کی کمزوری کی وجہ سے مہنگائی میں مذید اضافہ دیکھنے کو ملے گا
پچھلے دو دہائیوں سے تو ہم خود شاہد ہیں کہ کسی بھی حکومت کے پاس کوئی ڈھنگ کا اکنامسٹ موجود نہیں جو دیرپا معشیت کے خدوخال مرتب کرسکے۔ ہر حکومت عارضی بندوبست میں لگی ہے اور اس کے لئے آئی ایم ایف کے حاشیہ بردار چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ہی وزارت کا قلمدان سنبھالے آ جاتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ حکومتوں کو آئی ایم ایف کے آستاں پر کشکول بدست جھکنے پر تیار کرتے ہیں۔ اور پھر حکومت کی مدت ختم ہونے پر یہ حضرات پھر سے واپس آئی ایم ایف کی نوکری کرنے ملک سے سدھار جاتے ہیں یا اگلی حکومت کے مشیر وزیر۔
یہ دکھڑا ایک طرف مگر بات ھو رھی تھی چینی کی اور چائے کا تذکرہ نہ ھو یہ کیسے ممکن ھے۔
چینی کی چائے ہمارے ملک کی مقبول عام مشروب ہے ، گرمیاں ہو یا سردی، بہار ہو یا خزاں چائے چلتی رہتی ہے۔ عام مزدور، کسان سے لیکر امراء تک سب کی پسند چائے ہے۔ ملک کے صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مخصوص چائے خانوں میں لوگوں کا ہر وقت رش رھتا ہے اور چائے نوشی کے دوران دنیا جہاں کی سیاست و سماجی موضوعات پر گفتگو چلتی رہتی ہے جسے بعض ماہر سماجیات نے “سٹریٹ ویزڈم” کا نام دیا ہے۔ لاھور میں انار کلی بازار کے قریب پاک ٹی ہاؤس تو کلاسک کا درجہ حاصل کر چکا ہے اور ہمیں بھی ہر سال سردیوں کے دوران یہاں بیٹھنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ اپنے سکردو اور گلگت میں چائے خانوں میں حیدری ہوٹل سکردو، چائے خانہ سپر مارکیٹ سکردو، “حسن چائے خانہ” قتل گاہ مارکیٹ ، زلزلہ چائے سنٹر کشو باغ اور گلگت میں پیرا کا چائے خانہ اور گھڑی باغ کا دیسی کیک اور چائے کا قدیمی ہوٹل وغیرہ مقبول عام ہیں جہاں ہر طبقے کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور ہر موضوع پر بلا تکان گفتگو کرتے ہیں۔ اس طرح یہ چائے خانے ہر شخص کے لئےکتھارسس کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو چائے صرف وقتی ضرورت نہیں بلکہ ہماری معاشرتی زندگی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مگر اب چینی کی قیمت میں اضافے کے ساتھ چائے کی پیالی کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ھے، کیا اس سے ہماری اس تہذیبی روایت میں خلل پڑے گا؟ کیا مٹھاس بھی روٹھ جائے گی۔۔۔۔۔
حکومت اور اپوزیشن تو نمبر پورے کرنے کی گیم میں طرح مصروف ہیں۔
تحریر۔ عاشق فراز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟