سود خور مافیا کیوں طاقتور قانون کیوں بے بس

0 0

آئیے اس کا سرسری جائزہ لیتے ہیں انسدادسو د خوری ایکٹ 2007 کے مطابق سود خوری جرم ہے جس کی سزا دس سال قیداور پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہے مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 50 فیصد ملازمین سو د خوری کے قانون سے لاعلم ہیں جس کی وجہ سے شہر میں سود خوروں کی موجیں لگی ہوئی ہیں ۔ سود خور بیس ہزار روپے کی رقم پر پچیس سو روپے ماہانہ اور ایک لاکھ روپے پر بیس ہزار روپے ماہوار یا اس سے زائد سود وصول کرتے ہیں ۔سو د خوری کے اس نیٹ ورک میں زیادہ تر امرا اپنے زرخرید ایجنٹس کے زریعے وصولی کرتے ہیں اہم بات یہ ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 489-Fسو د خوروں کی سب سے بڑی محافظ بنی ہوئی ہے ،سو د خور قرضہ لینے والے سے اپنے نام کا پوسٹ پیڈ چیک لے لیتے ہیں اور مقررہ تاریخ کو چیک ڈس آنر ہونے کی صورت میں 489-Fت پ کے تحت مقدمہ درج کر کے ان کو جیل بھجوادیتے ہیں اور وہ بیچارہ قرضہ کے سود کی ادئیگی تک جیل میں ہی سڑتا رہتا ہے اور پھر اس کا مکان ،گھراونے پونے ریٹوں میں ہتھیا لیا جاتا ہے ۔سود خوری کے خلاف محض قانون کا ہونا ہی کافی نہیں ، اصل چیز اس پر عمل درآمد ہے جیسے پنجاب میں پرائیویٹ منی لینڈنگ کی روک تھام کا ایکٹ 2007 جس کے مطابق کسی ایک فر د کا کسی دوسرے شخص کو سود پرقرض دینا جرم ہے اور اس جرم کی دفعہ 4 کے مطابق اس کی خلاف ورزی پر دس برس قید یا پانچ لاکھ جرمانہ یا پھر دونوں بیک وقت مقر ر ہیں لیکن اس ایکٹ کے تحت آج تک کوئی مقدمہ درج ہی نہیں ہو ا ۔جزا اور سزا کا مرحلہ تو بعد میں پیش آتا ہے بدقسمتی سے محتاط انداز کے مطابق گلگت بلتستان کے تین ڈسٹرکٹس جن میں غذر. دیامر اور سکردو نمایاں بتائے جاتے ہیں خاص کر ہمارے ہاں زمینوں کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے فراڈ دھوکہ دہی بعض اوقات ایک ہی پلاٹ کئی افراد کو فروخت کرنے کی کئی واقعات ہیں اور عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں بہر حال اپنے ارد گرد خیال رکھیں کہ کہیں سادہ لوح سود کے شکاریوں کی جال میں نہ پھنس جائیں چونکہ ہم نے اپنے آنکھوں سے بہت سوں کو اجڑتے دیکھا ہے لیکن آج تک کسی نے آواز بلند کرنے یا متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کرنے کی جر ات نہیں کی ہمیں اپنے اندر سے ڈر اور خوف کو ختم کرکے جرأت کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ معاشرہ سود جیسی لعنت سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہو اس سلسلے میں ڈی آئی بلتستان رینج پرعزم ہیں وہ سود کے گھناؤنے کاروبار کو ختم کرنے کیلئے اپنے آفس کا دروازہ سب کیلئے کھول دیا ہوا ہے انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ عوام تعاون کریں متاثرین درخواست لائیں سود خوروں کے خلاف موثر کارروائی کریں گے اب اس زیادہ وہ کیا کرسکتے ہیں جب تک رپورٹ نہیں ہو گا تب تک کچھ نہیں ہوگا.

تحریر حسن صباء

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website