سی ٹی ایس پی کی مجرمانہ غفلت۔۔یا ملی بھگت

0 0

پاکستان میں عام طور پر سرکاری ملازمین کی تعیناتی کے لیے دو طریقے رائج ہے۔ چھوٹے ملازمین کی بھرتی کیلئے محکمہ خود اپنی نگرانی ٹیسٹ کے پرچے اور انٹرویو کا انتظام کیا جاتاہے۔جبکہ بعض پوسٹ کیلے محکمہ امیدواروں کی ٹیسٹ لینے واسطے کسی ٹیسٹنگ سروس کو دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد موزوں امیدوار کی تقرری میں شفافیت اور قابلیت کی بنیاد پر تعیناتی عمل میں لایا جاسکے۔
گلگت بلتستان کے سرکاری محکموں میں ملازمتوں کے اس وقت امتحان لینے کی ذمہ داری ایک نجی ادارہ کیرئیر ٹیسٹنگ سروس پاکستان انجام دے رہا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت اور اس ادارے کے درمیاں ایک معاہدہ ہوا جس کے تحت گلگت بلتستان میں مختلف سرکاری محکموں میں چھٹے سکیل سے پندرویں سکیل تک مستقل ملازمت اور چھٹے سکیل سے اوپر کے پروجیکٹ کے تمام آسامیوں پر سکریننگ ٹیسٹ کروائے کی ذمہ داری اس ادارے کو دی گئی۔
مذکورہ بالا ادارہ اسی معاہدہ کے تحت گلگت بلتستان کے مختلف سرکاری محکموں کے لئے یہ ادارہ ٹیسٹ تو لے رہا ہے مگر اس کی کارکردگی کے حوالے سے ہماری شدید تحفظات ہیں۔ اور تحفظات کی نوعیت انتہائی سنگین ہے۔سی ٹی ایس پی کی ویب سائٹ پر اگر ہم جائیں تو اس کے اہداف نہایت حوصلہ افزا لگتے ہیں۔لوگ بھی آنکھ بند کرکے اعتماد کرتے ہیں۔ تا ہم اس کے عملی اقدامات انتہائی ناگفتہ بہ اور غیر تسلی بخش ثابت ہوئے ہیں۔ٹیسٹ کے دوران غیر شفافیت،بے ضابطگیوں اور بد انتظامی واضح ہوگئی ہے۔یہاں بھی لوگ چور دروازے سے گھسنے کیلئے موقع کی متلاشی نظر آتے ہیں۔
اولا یہ ادارہ امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کئے بغیر رول نمبر سلپ ایشو کیا جاتا ہے۔ اس سے عام آدمی سے لے کر سرکاری ملازمین نا جائز فائدہ اٹھا کر نام ،نمبر کسی اور کا جبکہ تصویر کسی کی لگا کر ٹیسٹ پاس کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کیا یہ کرپشن اور نااہلی نہیں ہے تو اور کیا؟انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں امیدوار کسی بھی شکل میں ہو بلکہ انہیں ان بے روزگار لوگوں سے پیسے بٹورنے کے علاؤہ اور کیا کام ہوسکتا ہے۔ اس سے قابل اور موزوں امیدواروں کی حق تلفی ہوسکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریری امتحان کے دن امیدواروں کے شناختی کارڈ اور ایڈمٹ کارڈ کی کی چکنگ لازمی کیا جائے۔ وگرنہ موقع پرستوں کیلے کرپشن کیلئے مزید راہ ہموار ہوسکتاہے۔
ثانیاً امیدواروں کی شارٹ لسٹ حاصل کردہ نمبر کے حساب سے ترتیب نہیں جارہاہے بلکہ رول نمبر وائز بناتے ہیں۔ اگر رول نمبر وائز شارٹ لسٹ بنانا مقصود ہے تو اس میں حاصل کردہ نمبر بھی درج کریں۔ لیکن جو لوگ امتحان میں شریک ہو جاتے ہیں انہیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ امتحان میں شامل ہونے والے کس امیدوار نے کتنے نمبر لئے ہیں۔ کہیں کم نمبر والے شارٹ لسٹ کے مطابق ٹاپ پہ آجاتا ہے تو وہی شارٹ لسٹ سادہ لوح عوام کو دکھا کر میرٹ کو پاؤں تلے روند ڈالتے ہیں۔ المیہ ہی المیہ ہے کچھ سیاسی نمائندوں، سماجی کارکنوں بلخصوص رپوٹر،صحافی کو پتہ ہی نہیں سی ٹی ایس پی شارٹ لسٹ کس طرح بناتے ہیں۔یہ ان کے معلومات سے ابھی تک خارج ہے۔
لھذا ہم وزیراعلی گلگت بلتستان جناب خالد خورشید صاحب اپیل کرتے ہیں کہ درج بالا تحفظات دور کرنے کیلے نوٹس لے ۔
اور آئندہ اس قسم کی غلطی سے اجتناب کرنے کا حکم دیا جائے اور اداروں میں ملازمتوں کے لئے اس کے طرح نجی اداروں سے کئے ہوئے معاہدے کو فی الفور ختم کرکے تمام سرکاری پوسٹوں کے لئے ٹیسٹ لینے کی ذمہ داری فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو دینے کا حکم صادر کیا جائے۔
تحریر غلام حیدر وائین منٹھوکھا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website