ضلع دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہے دونوں شاہراؤں شاہراقرام اور شاہرا بابوسر ناران کی طرف سے دیامر میں انٹری ہے پھر آگے گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع آتے ہے۔
ہونا تو یہی چاہے تھا کہ گلگت بلتستان کے گیٹ وے ہونے کی ناطے ضلع دیامر ہر لحاظ سے ہر میدان میں ترقی یافتہ ہوتا لیکن کچھ اپنوں کی غلطیوں اور کچھ شہر اقتدار والوں کی دیامر کے ساتھ روا کیا جانے والا سلوک سے آج دیامر گلگت بلتستان کا سب سے پسماندہ ترین ضلع ہے ۔
اپنوں سے مراد دیامر کی سیاسی قیادت جس نے ہمیشہ گلی محلے اور قومیت کی سیاست کی ہے اور بدقسمتی سے دیامر سے ترقی اور خوشحالی کا ویژن رکھنے والا کوئی لیڈر اب تک سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ شہر اقتدار سے مراد اقتدار میں آنے والوں میں چاہے وہ ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی دونوں جماعتوں نے دیامر کو ترجیح نہیں دی ہے۔
تحریک انصاف کا اب پہلا دور ہے آخر میں پتہ چلے گا وہ بھی پہلے والوں کی طرح دیامر کے ساتھ یہی سلوک روا رکھتے ہے یا کچھ نیا کرتے ہے۔
ضلع دیامر میں اس وقت ملک کی میگا پراجیکٹ دیامر بھاشا ڈیم پر کام تیزی سے جاری ہے اور امید کی جارہی ہے کہ یہی ڈیم ملک کی تعمیر و ترقی خوشحالی کے ساتھ دیامر کے لئے بھی نیک شگون ثابت ہوگی اور دیامر کی تقدیر بدل جائے گی۔
دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے ساتھ واپڈا ضلع دیامر کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے منصوبے بھی شروع کر رہی ہے جس میں سی بی ایم Confidence Building measures اعتماد سازی کے منصوبوں کے زریعے دیامر کی انفراسٹرکچر تعلیم اور صحت کے شعبے کے منصوبے شامل ہے ۔
اس سلسلے میں 5 ستمبر 2021 بروز اتوار کو واپڈا ہاؤس اسلام آباد میں جنرل منیجر واپڈاینڈ اینڈ ایکوزیشن بریگیڈئیر ریٹائرڈ محمد شعیب تقی اور کلکٹر دیامر بھاشا ڈیم سعد بن اسد کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں دیامر کے سیاسی وہ سماجی قیادت اور علماء کرام اور یوتھ کے عہدیداران نے شرکت کی۔
اجلاس میں دیامر کے طرف سے مشترکہ قرارداد کے زریعے اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کئے گئے جس پر واپڈا کی طرف سے جی ایم شعیب تقی نے فورا عملدر آمد کی یقین دہانی کرائی۔
یوں ایک بار پھر دیامر کے عوام کے لئے امید کی کرن پیدا ہوئیں ہے کہ پہلی بار دیامر کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے سلسلے میں کام ہونے جارہا ہے۔
کلکٹر دیامر بھاشا ڈیم ڈپٹی کمشنر دیامر سعد بن اسد کی کاوشوں سے 5 ستمبر کی میٹنگ میں طے پائی جانے والی نکات جس میں سی بی ایم سکیموں کی زریعے دیامر کو ماڈل ضلع بنانا سر فہرست تھی منظوری دلائی جس پر اب باقائدہ عملی کام آغاز ہوچکا ہے۔
اعتماد سازی کے منصوبوں کے تحت دیامر کے لئے تعلیم،صحت اور انفراسٹرکچر جس میں چلاس شہر کی نکاسی آب کا میگا منصوبہ،گلیوں اور لنک سڑکوں کی تعمیر،کھیل کے میدان،پارکس،ریجنل ہسپتال چلاس کے لئے میڈیکل آلات کی فراہمی اور اپگریڈیشن میں تعاون،23 سکولز کی تعمیر بجلی کے منصوبے اور دیگر تعمیر وہ ترقی کے منصوبے شامل ہے۔
سی بی ایم سکیموں پر عملدرآمد کے لئے کلکٹر دیامر بھاشا ڈیم سعد بن اسد کی سربراہی میں کمیٹی قائم ہوئی ہے جو مقامی کمیونٹی اور ماہرین کی مشاورت سے سی بی ایم سکیمون ہر عملدرآمد کے لئے اقدامات کرے گی۔
چئیرمین واپڈا جنرل مزمل حسین جی ایم واپڈا شعیب تقی اور کلکٹر دیامر بھاشا ڈیم سعد بن اسد پراجیکٹ ڈائریکٹر واپڈا دیامر بھاشا ڈیم راؤ یوسف کی زاتی کاوشوں اور دیامر کے لئے خصوصی ترجیحات کی بدولت پہلے دیامر گریجویٹ الائنس کی مطالبے پر دیامر کو گریڈ 1 سے 16 تک ملازمتوں میں 100فیصد کوٹہ دیا گیا اور اب سی بی ایم سکیموں کے زریعے ضلع دیامر کو گلگت بلتستان کا ماڈل ضلع بنانے کے مشن پر گامزن ہے۔*
متاثرین دیامر بھاشا ڈیم کے ریسٹلمنٹ کے عمل میں بھی اب تک بہترین پیشرفت ہوئی ہے کلکٹر دیامر بھاشا ڈیم سعد بن اور انکی انتظامی ٹیم اور واپڈا کے ڈائریکٹر کورڈینیشن محمد شفیق اور انکی ٹیم کی دن رات محنت کی بدولت ریسٹلمنٹ پکیج برائے چولہا ادائیگیوں کا عمل 90 فیصد تک مکمل ہوچکا ہے باقی ماندہ بھی رواں ماہ کے آخر تک مکمل ہوگا اسکے بعد متاثرین میں انکے انتخاب کے مطابق پلاٹس کی تقسیم کی جائے جہاں متاثرین ماڈل ویلیج میں اپنی نئی آبادکاری کا عمل شروع کرینگے۔
ماڈل ویلیج کے لئے پہلے سے ہی بجلی پانی اور زرائع آمدرفت مارکیٹس سکول اور دیگر لوازمات پورے کردیے ہے صرف پلاٹوں کی تقسیم اور آبادکاری بقیہ ہے۔
دیامر کی موجود انتظامی قیادت اور واپڈا کی ٹیم موجود رہی تو وہ وقت دور نہیں جب دیامر گلگت بلتستان کا ماڈل ضلع بنے گا اور بھاشا ڈیم کے زریعے پورے پاکستان کے لئے تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بھی بنے گا اسی طرح گلگت بلتستان کے لئے بھی خوشحالی کا گیٹ وے ثابت ہوگا
تحریر۔عمران اللہ مشعل
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟