اگرچہ ہم کافی عرصے سے مختلف مقامات پر مسلسل اس بات کا ذکر کرتے آرہے ہیں کہ بلتستان کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر یہاں کے جوانوں اور باشعور افراد کو کم از کم ایک دفعہ ضرور فلسطینی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جس طرح یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کےلیے ماحول بنایا گیا تھا، بلکل ویسے ہی صورت حال اب بلتستان میں پیدا کی جارہی ہے۔ اگر تاریخ کا مطالعہ کرے تو ایسے کئی واقعات مل جائیں گے، جو اب تک بلتستان میں رونما ہوچکے ہیں۔ دیکھا جائے تو کسی بھی ملک یا خاص علاقے میں تبدیلی لانے کےلیے سب سے پہلے وہاں کے مقامی ثقافت میں تبدیلی لائی جاتی ہے۔ اور کلچر کو ختم کرنے کےلیے پہلا اور آسان ہدف تعلیمی ادارے ہوتے ہیں۔ تاکہ ان اداروں کے ذریعے نئے آنے والی نسلوں کو اس کے مطابق آمادہ کیا جاسکے۔ بلتستان پہلے سے ہی اعلٰی تعلیم کے لحاظ سے بہت پیچھے ہے۔ بڑی مشکل سے یہاں سکول نما ایک یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا، مگر اس پر بھی غیر مقامی وائس چانسلر کو تعینات کرکے یہاں تعلیم سے زیادہ تفریح کو فروغ دی جارہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل بلتستان یونورسٹی کے وائس چانسلر محمد نعیم نامی شخص نے یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ کواردو کا دورہ کیا۔ اور اپنی سستی شہرت کےلیے یہاں کے مقامی افراد کے ہاتھوں تراشے ہوئے ایک پتھر کو صلیب قرار دیکر مختصر مدت میں دنیا بھر کے میڈیا میں کوریج حاصل کی۔ نہ اس حوالے سے مقامی افراد کی رائے جاننے کی کوشش کی، نہ ہی کسی اور کی بات سننے یا ماننے پر آمادہ ہوا۔ اس کی اچھل کود دیکھ کر راقم نے ان سے رابطہ کیا۔ اور کہا کہ میرا تعلق اسی علاقے سے ہے جہاں سے آپ نے صلیب دریافت کیا ہے۔ چونکہ اس پر ہمارے علاقے کے لوگوں کو شدید تحفظات ہیں، لہذا اس حوالے سے آپ کے ساتھ ایک نشست رکھنا چاہتا ہوں، اور اسے ہم براہ راست میڈیا پر چلائیں گے۔ لیکن اس ڈرامہ باز وی سی نے ہزار بہانے کرکے میرے ساتھ پروگرام کرنے سے صاف انکار کردیا۔ اور اپنی جان چھڑانے کےلیے مجھے مقامی ایک پروفیسر کا نمبر دیتے ہوئے کہا کہ اس پتھر کے متعلق مجھ سے زیادہ آپ کا یہ بندہ معلومات رکھتے ہیں، لہذا آپ ان کے ساتھ پروگرام کریں۔ یعنی وہ اپنی مقصد کے حصول کےلیے ہمارے مقامی افراد کو بھی ایسے استعمال کررہے ہیں کہ انہیں شبہ تک ہونے نہیں دیتا۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے مقامی افراد بھی جن میں کچھ علماء سمیت قوم کے نام نہاد دانشوران، صحافی حضرات اور پروفیسرز سب ان کے سامنے بےبس نظر آتے ہیں۔ اس بات کا اندازہ ہم اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ کچھ روز قبل وفاق سے جاری کردہ یونیورسٹی کی آڈٹ رپورٹ میں وائس چانسلر اور رجسٹرار کی ملی بھگت سے کی جانی والی کرپشن کی داستان اور ساتھ میں وی سی کی سوشل میڈیا پہ طالبات کے ساتھ کی جانے والی غیر اخلاقی گفتگو کی سکرین شارٹ سامنے آنے کے باوجود اب تک کسی کی زبان نہیں کھلی۔ بلکہ کچھ مقامی سہولت کار اب بھی اس کی ایمانداری اور حق پر ہونے کی گواہی دیتے نظر آرہے ہیں۔ یونیورسٹی پر اس کی اجارہ داری تو ابتداء سے ہی جاری ہے اور یہ بات بھی سب پر واضح ہے کہ وہ یونیورسٹی میں مقامی قابل افراد کے بجائے اپنی مرضی کے تحت جی حضوری کرنے والے اور غیر مقامی افراد کی تعینات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ مگر اب تک کسی نے بھی اس پر اعتراض کرنے کی ہمت نہیں کی۔ اگر کوئی اس کے خلاف کوئی بیان دینا چاہے تو میڈیا والے ایسے بیانات کو کوڑے دان میں ڈال دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے آسانی سے اتنی بڑی کرپشن کرلی، کیونکہ اسے بخوبی اندازہ تھا کہ اس کے ارد گرد سب اس کے ہاں میں ہاں ملانے والے درباری بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس کرپشن کی رپورٹ اور غیر اخلاقی گفتگو وائرل ہونے کے بعد اس شخص کا اس مقدس منصب پر رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی اس کے خلاف بولنے والا نہیں۔ سب کی زبانوں پر اس نے تالا لگا رکھا ہے۔ اسی وجہ سے یونیورسٹی میں اس کی مقررہ مدت پوری ہونے کے باجود وہ اب تک غیرقانونی طریقے سے اس عہدے پر براجمان ہے۔ اور وہ اس کا غلط فائدہ اٹھاکر یہاں کی تاریخ، تہذیب و تمدن اور بلتی ثقافت کو مسخ کرنے کی گھناونی کوشش کررہا ہے۔ بلتستان بھر میں وہ جہاں چاہے اپنی مرضی چلاتا ہے، اور جسے چاہے حاصل کرلیتا ہے۔ کواردو میں دریافت ہونے والے اس پتھر کے متعلق مقامی بزرگوں کا کہنا ہے کہ اسے راجہ علی شیر خان کے دور میں خاتون اول بلتستان ‘رانی گل’ کی فرمائش پر ایک محل کی تعمیر کےلیے تراشہ گیا تھا۔ اور اسے سکردو پہنچانے کےلئے ایک فوجی دستہ تیار کیا گیا، مگر اس وقت علی شیرخان جنگی حالت میں تھے۔ اس لیے اچانک اس فوجی دستے کو بھی حفاظتی اقدامات دیکر مختلف مقامات پر تعینات کرنا پڑا۔ اس لیے یہ پتھر کافی عرصہ اسی مقام پر پڑا رہا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ دو ستون اور بھی وہاں موجود تھے، جسے کچھ سال قبل علاقے کے عوام نے مساجد کی تعمیر کےلیے استعمال کیا۔ مگر یہ پتھر کافی بڑا ہونے کی وجہ سے کسی کام نہ آیا اس لیے وہاں پڑا رہا۔ اب اسے بلتستان یونیورسٹی کے ڈرامہ باز وی سی نے صلیب قرار دیکر سستی شہرت حاصل کی ہے۔ مقامی افراد کی ہزار انکار کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے اس پتھر پر مختلف سمینار بھی منعقد کرائے، جہاں مسیحی برادری کے راہنماوں نے بھی شرکت کی۔ اور اب اس کے کہنے پر پوپ کا نمائندہ بھی روم سے بلتستان تک آگیا۔ اور اس ستون کے بالائی حصہ (جسے اردو میں سرستون جبکہ مقامی زبان میں “پھلی” کہا جاتا ہے) کو صلیب قرار دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق پوپ کے نمائندے نے اس جگے پر چاردیواری بنانے اور کچھ لوگوں کو اسکی حفاظت کےلیے معین کرکے انہیں تنخواہ کا بندوبست کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ اب دیکھتے دیکھتے کچھ سال بعد یہ چاردیواری کلیسا میں بدل جائے گی۔ اور اس پورے علاقے پر بغیر کسی مزاحمت کے عیسائی اور سرکاری مشینری کا قبضہ ہوگا۔ اور پھر دنیا بھر سے عیسائی سیاح کی شکل میں یہاں آئیں گے، اور منہ مانگی قیمت میں زمینیں خرید کر یہاں دوسرا اسرائیل بنانے کی کوشش کریں گے۔ ان سب کے باوجود ہماری قیادت انہیں خوش آمد کرنے میں مصروف ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر بہت دکھ ہوا جب پوپ کا نمائندہ ہماری مرکزی قیادت سے ملاقات کررہے تھے، کسی نے بھی ان پر یہ بات واضح کرنے کی زحمت نہیں کی کہ ایسے پتھر ہمارے یہاں گھروں اور محلات کی تعمیرات کےلیے تراشے جاتے ہیں یہ صلیب نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو ایسے استقبال کرتے نظر آئے، جیسے یہ پوپ کا نمائندہ یہاں امن کا سفیر بن کر آیا ہو۔ جبکہ حقیقت میں وہ یہاں کی امن، ثقافت اور اسلامی تہذیب و تمدن پر وار کرنے آیا تھا۔ مگر ہمارے علمائے کرام کی خاموشی اور مہمان نوازی دیکھ کر انہوں نے بلتستان میں قدم جمانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس معاملے پر ہمارے اہل علم طبقہ خاص کر علمائے کرام، محققین و مورخین حضرات، دانشوران ملت، آثار قدیمہ اور بلتی ثقافت کے علمبرداروں سمیت دینی اداروں اور مذہبی جماعتوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ جب یونیورسٹی آف بلتستان کے ایک وی سی تحقیقات کے نام پر اسلامی تہذیب تمدن اور بلتی ثقافت پر وار کرتے ہوئے بلتی فن تعمیر کے عظیم شاہکار “پھلی” کو صلیب ثابت کرکے بلتستان جیسی سرزمین پر عیسائیت کو فروغ دینے کی کوشش کررہا ہو تو ایسے میں بلتستان بھر کے علمائے کرام، دینی اداروں اور مذہبی راہنماوں کی مکمل خاموشی بھی لمحہ فکریہ ہے۔ اس صورت حال میں اہل علم طبقے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی اس پر تحقیق کریں۔ مختلف پروگرام اور سمینار منعقد کرکے اس کی اصل حقائق عوام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ مگر ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہمارے نام نہاد مورخین اور دانشوران قوم جنہوں نے بلتستانی تاریخ پر دسیوں کتابیں لکھتے وقت کہیں پر بھی عیسایت کا ذکر نہیں کیا، لیکن حال ہی میں اس مشینری کی طاقت یا پھر درہم و دینار کی چھنکاریاں سن کر اس پتھر کا 70 فیصد صلیب ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ لہذا ہمارے جوانوں اور باشعور افراد کو ہوش میں آنا ہوگا۔ اور علاقائی ثقافت اور اسلامی تہذیب و تمدن کی طرف بڑھتے ہوئے ہاتھوں کو بروقت روکنا ہوگا۔ بصورت دیگر ہماری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔۔۔
تحریر؛ ایس ایم موسوی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟