واقعہ کربلا ہمیں قربانی کا درس دیتا ہے

0 0

*

 

انسان کو بیدار ہو لینے تو دو

ہر قوم پکارئے گئی ہمارے ہیں یاحسین

 

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں واقعہ کربلا پیش آیا۔

 

واقعہ کربلا 10 محرم الحرام 61 سن ہجری کو کربلا کے مقام پر پیش آیا۔

 

واقعہ کربلا امام حسینؑ کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے۔

ہمارے نزدیک واقعہ کربلا ایک درسگاہ ہے۔جس میں قربانی سچائی اور آزادی جیسے بہت معنی سامنے آئے۔

 

جنگ کربلا انسانی تاریخ کا ایک بہت اہم ہے۔ یہ نہ صرف ایک جنگ ہے بلکہ زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے رہنمائی بھی ہے۔ اس جنگ کی بنیاد حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی وفات کے بعد رکھی گئی تھی۔ امام علی خلیفہ بن گئے کچھ بدکردار لوگوں کو پسند نہیں آیا، اتنی لڑائیاں ہوئیں، علی علیہ اسلام شہید ہو گئے، پھر حضرت امام حسنؑ بن علی چھ ماہ خلیفہ رہے وہ بھی ان کے بعد شہید ہو گئے۔

 

یزید، اس وقت کا حکمران، بدکردار اور ظالمانہ سمجھا جاتا تھا اور اس نے اس کی حکمرانی میں غیر اسلامی کام کیا، عراق اور کوفہ کے عوام نے حضرت امام حسینؑ کو کئی خطوط لکھے اور انہیں کوفہ آنے کو کہا تاکہ وہ اس کے ہاتھ میں بیت حاصل کر سکے۔ اسے اپنا خلیفہ بنا کر، یزید چاہتے تھے کہ حسینؑ اس کے ساتھ ہوں، وہ جانتا تھا کہ اگر حسینؑ اس کے ساتھ آجائے تو سارا اسلام اس کی گرفت میں آجائے گا۔ بہت دباؤ کے بعد بھی،امام حسینؑ نے ان کی کسی بھی چیز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، لہذا یزید نے امام حسینؑ کو روکنے کا منصوبہ بنایا۔

 

4 مئی 680 ء کو، امام حسینؑ مدینہ میں اپنا گھر چھوڑ کر مکہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے حج کرنے کا ارادہ کیا، لیکن معلوم ہوا کہ دشمن حاجیوں کے بھیس میں آسکتے ہیں۔ امام حسینؑ کعبہ جیسے مقدس مقام پر خون بہانا نہیں چاہتے تھے، تب امام حسینؑ نے حج کا ارادہ بدلا اور کوفہ شہر کی طرف بڑھے۔ راستے میں، دشمنوں کی ایک فوج نے انہیں گھیر لیا اور انہیں کربلا لائے۔

 

وہ زمین جس پر امام حسینؑ نے کربلا میں اپنا خیمہ لگایا تھا، اس کو پہلے امام حسین نے خریدا تھا، پھر انہوں نے اسی جگہ پر اپنا کیمپ لگایا تھا۔ یزید اپنے قائدین کے توسط سے اپنی باتوں کو قبول کرنے کے لیے امام حسینؑ پر دباؤ ڈالتا رہا جب امام حسین نے یزید کی شرائط کو نہ مانا تو آخر کار دشمنوں نے نہر پر فوج کا پہرہ لگایا اور پانی کو امام حسینؑ کیمپوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔ یزید کی فوج کو دیکھ کر کوفہ عراق کے لوگ، جنھوں نے اپنا رہبر بنانے کے لیے امام حسین کو بلایا تھا، وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔

 

تین دن گذر جانے کے بعد، جب امام کے گھر والے کے بچوں کو پیاس لگنے لگی، تو امام حسینؑ نے یزیدی فوج سے پانی طلب کیا، دشمن نے پانی دینے سے انکار کر دیا، دشمنوں نے سوچا کہ امام حسین پیاس سے ٹوٹ کر ہمارے تمام حالات کو قبول کر لیں گے۔ جب تین دن کی پیاس کے بعد بھیا شہید کربلا امام حسینؑ نے یزید کی بات نہیں مانی تو دشمنوں نے امام حسینؑ کے کیمپوں پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد، امام حسینؑ نے ایک رات دشمنوں سے مہلت طلب کی اور اس رات، امام حسینؑ اور ان کے اہل خانہ نے اللہ کی عبادت کی۔ اور پھر امام حسینؑ نے یزید جیسے بدکردار انسان کی بیعت کرنے سے انکار کیا اور یزید کے لشکر کے ساتھ جنگ کرنا کا اعلان کیا۔ کربلا ہمیں صبر, برداشت, مساوات, اور انصاف کا درس دیتا ہے۔

 

کربلا اس زمین کا نام ہے جس میں ظلم کا انتہا ہوا پھر امام حسینؑ حق کے سامنے ڈٹ کر یزیدی فوج کا مقابل کیا۔ کربلا ہمیں مولا امام حسینؑ اور نواسہ رسولﷺ کی عظیم قربانی کا درس دیتا ہے۔ حسینت کا نام تا قیامت تک قیام رہے گا ۔ امام حسینؑ نے اپنی اہل عیال کے ساتھ اسلام کے لیے اپنی جانیوں کو قربان کیا۔ حسینت حق کا نام ہے حسینت قربانی دینے والوں کا نام ہے حسینت انصاف کا نام ہے۔

 

#سید_بادشاہ_حسینؑ

 

*

 

تحریر*: *جمشید علی طفیور

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website