اسکردو شہر کی بے بسی

0 0

ویسے تو اسکردو شہر پاکستان کے خوبصورت مقامات میں سے ایک مقام ہے۔ جہاں گرمیوں میں ہزاروں کی تعداد میں ٹورسٹ اس مقام کا طرف رخ کرتے ہیں، اس لئے اسے ٹورسٹ کا شہر بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسکردو شہر کے خوبصورت مقامات کے ناموں میں سے شنگریلا، اور دیوسائی دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں شامل ہیں۔

 آج کل اسکردو شہر بے بسی کا عملی نمونہ بنا ہوا ہے۔ یہاں انفراسٹکچر کا کوئی پراسان ِحال نہیں۔ جہاں دیکھو ٹوٹی پھوٹی سٹرکیں نظر آتی ہیں، کوئی سڑکوں کی مرمت کرنے والا ادارہ کام نہیں کر رہا ہے۔ ریڈیو پاکستان سے لے کر یادگار چوک تک مٹی ہی مٹی نظر آتی ہے اور اسی طرح بےنظیر چوک سے لے کر الڈینگ تک بھی روڑ درمیان درمیان میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں!!

 اسی طرح اگر اسکردو گلگت روڈ دو دن کے لیے بند ہوجائے تو دکانوں سے اشیاء خوردونوش غائب ہوتے ہیں اور چیزیں بلیک مارکیٹنگ میں فروغ ہوجانے لگتی ہیں ضلعی انتظامکا نام و نشان نہیں۔

یوں ایسے ایام میں خاص طور پر پٹرول اور آٹا مکمل طور پر مارکیٹ سے ناپید ہوجاتے ہیں اور پٹرول کی قیمت میں بھی دو دن گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔

 میڈیکل سٹور میں ادویات غائب ہوجاتے ہیں ۔اسکردو شہر کے ہسپتال میں سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اتنا بڑا شہر میں صرف ایک ہسپتال ہے ، وہ بھی اپنی بےبسی کا داستان بیان کرتا ہے۔

 جہاں تک واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کی بات کی جائے تو اسکردو شہر میں سردیوں میں بجلی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ سردیوں میں صرف 4 گھنٹے بجلی آتی ہے اور 20 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔ بجلی نہ ہونے سے زیادہ تر کارخانے متاثر ہوتے ہیں۔ حالانکہ اسکردو شہر میں بجلی بڑے مقدار میں پیدا کیی جاسکتی ہے، صرف اس کے اوپر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

 اللہ تعالی نے گلگت بلتستان کے ہر علاقے کو قدرتی چیزوں سے مالامال کیا ہے، جہاں تک پانی کی بات کی جائے تو یہاں پانی وافر مقدار میں موجواد ہے۔

 میں اس آرٹیکل کے ذریعے اربابِ اختیار سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس شہر اور یہاں کے رہنے والوں کو بنیادی سہولیات سے محروم نہ رکھیں۔ اگر اس شہر کے اوپر دھیان نہیں دیا گیا تو کچھ سالوں کے بعد یہ شہر کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگے گا !!!

جب بھی اسکردو شہر کی سٹرکوں پر چلنے اور پھرنے کا مواقع ملتا ہے میرے دماغ میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ آپ اس شہر کے رہنے والے ہو ، لہذا اس شہر کے حق میں کیوں نہیں بولتے ہو یا کیوں نہیں لکھتے ہو ۔اس لیے آج اس شہر کی بےبسی کے بارے میں لکھنے کیلیے قلم اٹھایا اور اپنا درد دل بیان کیا۔

تحریر : جمشید علی طیفور*

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website