گلگت بلتستان کی پرامن فضا میں ارتعاش اس وقت آیا جب ملت اہل تشیع کے صوبائی سربراہ آغا راحت الحسین حسینی نے بقول ان کے تبلیغ کی نیت سے خطے میں مقیم دیگر مسالک کو مکتب تشیع میں شمولیت کی دعوت دی اور مناظرہ و مباہلہ کی بات بھی چل پڑی جبکہ ردعمل میں خطہ بھر سے نصف درجن کے قریب اہلسنت کے علما بشمول اہلسنت و والجماعت گلگت بلتستان و کوہستان کے امیر قاضی نثار نے مناظرہ و مباہلہ کو قبول کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے تاریخ و مقام کے تعین کا مطالبہ بھی کیا۔۔طرفین کی غیر ضرور مباحثوں کی اچانک ظہور سے سوشل میڈیا میں ایک طوفان آیا اور تکرار میں اضافہ ہوا۔ گلگت بلتستان سطح پر فرقہ وارانہ ہوا چل پڑی اور خوف و مایوسی کے چار سو پھیلے بادل ایک نئی آزمائش کا اشارہ دینے لگے، ایسے میں تاریخ کا ایک انوکھا رویہ پہلی بار دیکھنے کو ملا جب گلگت بلتستان کی کثیر تعداد آبادی نے دونوں سپریم لیڈرز کی باتوں کو سنجیدہ ہی نہیں لیا، تمام مسالک کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے آغا راحت الحسین حسینی اور قاضی نثار صاحب کے بیانیے کو مسترد کیا اور گلگت بلتستان میں مسلکی ہم اہنگی کی بات کی۔ سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد اس پورے واقعے کو مذاق میں لیتی رہی اور فنون طبع و مذاق کا وسیلہ تصور کیا۔ گلگت بلتستان کی مسلکی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے جس میں کثیر تعداد عوام نے اندھی تقلید کا سہارا لینے کے بجائے وہ اپنے دماغوں اور ذہنوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوئے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے بپا مسلکی کش مکش سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ گلگت بلتستان کے لوگ اب بہت باشعور ہو چکے ہیں، اب لوگ سمجھ چکے ہیں کہ ان کا نفع و نقصان کس چیز میں ہے؟ لوگوں کو اس بات کا بھی ادراک ہوا ہے کہ مسلکی بحث لا حاصل ہے۔۔۔۔ نوجوان نسل کی اس باشعور آواز سے ایک امید اور حوصلے کا امکان پیدا ہوا ہے۔۔۔۔ ایک تاثر یہ بھی سامنے آیا کہ مسلکی چورن اب نہیں بیچا جا سکتا ہے۔ دنیا مریخ پر پہنچ چکی ہے ہم آگ میں کودنے پہ بضد ہیں۔۔۔۔ دنیا میں ایسے علاقے ہیں جہاں درجنوں مذاہب کی موجودگی کے باوجود ایک بہترین معاشرے کا وجود ہے جبکہ ہمارے یہاں تو ایک ہی مذہب (اسلام) ہے۔۔۔ ہم ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب کے ماننے والے ہیں مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم پھر بھی ایک دوسرے پہ فتح پانے پہ کیوں بضد ہیں؟ حالانکہ گلگت بلتستان کی تاریخ مختلف مسالک میں خونی رشتوں سے بھر پڑی ہے۔ ضلع دیامر سے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی ہے اور ضلع دیامر میں مکین اہلسنت کمیونٹی کے ترکتی کھرمنگ، روندو، نگر، گلگت، ہراموش، بگروٹ اور متصل علاقوں میں خون کے انگنت رشتے آج بھی ہیں جبکہ خونی رشتوں کے علاوہ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہم ایک مظبوط قوم ہیں، چاہئے تو یہ تھا کہ سماجی ڈھانچے کو قومی بنیادوں پر تشکیل دیتے ہوئے میرٹ، انصاف اور قانون کی عملداری کو یقینی بناتے مگر افسوس ! کہ آج تک ایسا نہیں ہوا ، ہم نے ہر دور میں ایک دوسرے کے گلے کاٹے، ماوں کی گود اجاڑے، اپنوں پہ گولیاں چلائی، بہنوں کے سہاگ برباد کئے، گلگت شہر کو “نوگو” بنایا، قراقرم ہائی وے کو خون میں لت پت کیا، انسانی زندگی کو انسانیت کیلئے اجیرن بنائی جبکہ خود ساختہ اناوں کے مینارے تعمیر کرتے رہے ۔۔۔۔۔ ایک دوسرے پر برتری کے زعم میں روز اول سے لڑتے رہے مگر آج 2021 میں بھی یہ ثابت ہوئی کہ ہم میں سے کوئی برتر نہیں بلکہ ہم ذاتی مفادات کیلئے استعمال ہونے والے ” ٹشو پیپرز” ہیں جبکہ خطے کے امن کو آزمائش میں ڈالتے ہیں، ہمارے پاس کوئی مشترکہ روڈ میپ نہیں ہے، ہم تقسیم شدہ ہجوم ہیں جس کا کوئی سمت نہیں، اور یاد رکھے اس بے سمت سفر نے آج تک ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لیا ہے اور ہم خالی ہاتھ ہیں مگر کیا کیجئے ! بات پھر بھی سمجھ نہیں آتی۔۔۔۔آخر ہم کیوں ترم خانی سے معافی نامے تک کا سفر کرتے ہیں؟ اللہ کا شکر ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام کے مشترکہ دباو نے دونوں اکابر کو معافی مانگنے پر مجبور کیا ورنہ اس کھیل نے طویل ہونا تھا. طرفین کی جانب سے آج جاری معافی ناموں کے متن کو سنجیدگی سے پڑھنے کے بعد اہم پیش رفت یہ معلوم ہوئی کہ آئندہ کم از کم ایک دوسروں کے خلاف کفر کے فتووں کا باب بند ہونا چاہئے ۔۔ میں اس موڑ پر گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کے شعور اور عوام میں پیدا نئے اور اولین مثبت رویے کو سلام پیش کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔
تحریر: فیض اللہ فراق۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟